Meaning of
صیاد
saiyyaad • सैय्याद
Urdu
شکار کرنے والا; پکڑنے والا; استعارۃً، دلوں کو پھانسنے والا
English
hunter; captor; metaphorically, one who ensnares hearts
Hindi
शिकारी; पकड़ने वाला; रूपक में, दिलों को फँसाने वाला
Origin
Arabic
Ash'aar
Nuance
اصل میں 'صیاد' اس شخص کو کہتے ہیں جو مہارت اور صبر کے ساتھ شکار کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ ایک عاشق کی تصویر پیش کرتا ہے جو دلوں کو دلکشی اور کشش کے ساتھ پھانس لیتا ہے، شکار کے عمل کو محبت کی تلاش کے استعارے میں بدل دیتا ہے۔
Poetic Usage
شاعر 'صیاد' کا استعمال محبوب کو ایک دلکش قوت کے طور پر بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ شکار کے برعکس ہے، عاشق اور محبوب کے درمیان کے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ لفظ خواہش اور آرزو کا منظر پیش کرتا ہے، جہاں دل خوشی سے شکار بن جاتا ہے۔
Closing Insight
صیاد محبت اور تلاش کے نازک رقص کو سمیٹے ہوئے ہے، جہاں دل شکاری بھی ہیں اور شکار بھی۔
