Meaning of
سر تسلیم خم
sar-e-tasleem-e-kham • सर-ए-तस्लीम-ए-ख़म
Urdu
سر تسلیم خم کرنا
English
bowing head in submission
Hindi
आज्ञा में सिर झुकाना
Origin
Persian
Nuance
فقرہ 'سر تسلیم خم' فرمانبرداری یا قبولیت میں سر جھکانے کے عمل کو بیان کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ عاجزی اور سر تسلیم خم کرنے کی علامت ہے، جو اکثر گہری روحانی یا جذباتی قبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
Poetic Usage
شاعر 'سر تسلیم خم' کا استعمال عاجزی اور قبولیت کے موضوعات کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اس کا استعمال اکثر ایک کردار کے تقدیر یا الہی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو پیش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ لفظ ایک اعلیٰ طاقت کے سامنے جھکنے والے عاجز عقیدت مند کی تصویر کو بیدار کر سکتا ہے۔
Closing Insight
شاعری میں، 'سر تسلیم خم' ایک عظیم طاقت کے سامنے جھکنے میں پائی جانے والی کرم کو ظاہر کرتا ہے۔