Meaning of
سرمایہ توکل
sarmaaya-e-tawakkul • सर्माया-ए-तवक्कुल
Urdu
اعتماد کی سرمایہ; بھروسے کی بنیاد
English
capital of trust; foundation of reliance
Hindi
विश्वास की पूंजी; भरोसे की नींव
Origin
Persian
Nuance
یہ فقرہ اعتماد اور ایمان کے گہرے ذخیرے کا اشارہ دیتا ہے، جو اکثر تعلقات اور روحانی عقائد کی بنیاد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ شاعری میں، یہ کسی دوسرے پر ایمان رکھنے میں موجود طاقت اور نازکی کو مجسم کرتا ہے۔
Poetic Usage
شاعر اس فقرے کا استعمال ایمان، اعتماد اور انہیں برقرار رکھنے کے لئے درکار جذباتی سرمایہ کاری کے موضوعات کی تلاش کے لئے کرتے ہیں۔ یہ اکثر دھوکہ یا شک کے برعکس ہوتا ہے۔
Closing Insight
اعتماد ہی لنگر اور بادبان دونوں ہے، جو دلوں کو سکون اور طوفان کے ذریعے رہنمائی کرتا ہے۔