Meaning of
شام اضطراب
shaam-e-iztiraab • शाम-ए-इज़्तिराब
Urdu
اضطراب کی شام; بے چینی کا وقت
English
evening of anxiety; time of unrest
Hindi
चिंता की शाम; अशांति का समय
Origin
Persian
Nuance
اضطراب کی شام اس وقت کو ظاہر کرتی ہے جب دن کی فکریں عروج پر ہوتی ہیں، دل پر سایہ ڈالتی ہیں۔ شاعری میں، یہ روشنی سے تاریکی کی طرف منتقلی کی علامت ہے، دونوں حقیقی اور استعاراتی طور پر۔
Poetic Usage
شاعر اس فقرے کا استعمال وجودی خوف اور رات کے آنے کی ناگزیریت کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ صبح کی امید کے برعکس ہے، انسانی جذبات کی چکرمک نوعیت پر زور دیتا ہے۔
Closing Insight
اضطراب کی شام میں، ہم ان سائے کو پاتے ہیں جو ہماری روشنی کو متعین کرتے ہیں۔ یہ غور و فکر اور قبولیت کا وقت ہے۔