Meaning of

شام ستم

shaam-e-sitam • शाम-ए-सितम

ستم کی شام; دکھ کی شام

evening of oppression; dusk of suffering

अत्याचार की शाम; दुःख की संध्या

Persian

یہ فقرہ ظلم و ستم کے بوجھ سے ڈھکی ہوئی شام کے سنجیدہ اور بھاری ماحول کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ روشنی سے تاریکی کی طرف منتقلی کو پکڑتا ہے، جو غم کے آنے کی علامت ہے۔

شاعر اکثر اس فقرے کا استعمال مایوسی کے آغاز کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ شام کی خوبصورتی کو دکھ کی سختی کے ساتھ متضاد کرتا ہے۔ یہ امید کے خاتمے کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

دکھ کی شام میں، شاعری کو ایک آواز ملتی ہے جو دل کے گہرے سائے سے بات کرتی ہے۔