Meaning of

شام تر

shaam-e-tar • शाम-ए-तर

گیلی شام; نم شام

wet evening; damp dusk

गीली शाम; नम संध्या

Persian

یہ فقرہ نمی سے بھری شام کو ظاہر کرتا ہے، جہاں ہوا بھاری ہوتی ہے اور روشنی مدھم ہو رہی ہوتی ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر غور و فکر یا اداسی کے وقت کی علامت ہوتا ہے، جہاں نمی جذبات کے بوجھ کو ظاہر کرتی ہے۔

شاعر 'شام تر' کا استعمال اکثر یادوں یا خواہش کی کیفیت کو اجاگر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ سفر کے اختتام یا طوفان سے پہلے کی خاموشی کا بھی اشارہ دے سکتا ہے۔ شام کی نمی اکثر عاشق کے آنسوؤں کے متوازی ہوتی ہے۔

شام کی نم آغوش میں، شاعر دل کی ان کہی خواہشات کے لئے ایک کینوس پاتے ہیں۔