Meaning of

شاذ

shaaz • शाज़

نایاب; غیر معمولی; منفرد

rare; uncommon; unique

दुर्लभ; असामान्य; अद्वितीय

Arabic

ا
سے کا مجھ کو چھوڑنے کا فیصلہ صحیح ہے شاذ
جو حقیقت چاہتی تھی مجھ ہے وہ ہے وہ بات حقیقت ہے ہی نہیں

0

Download Image

ب
سے فقط طلب تھی اک بے وجہ کی مجھے
یار شاذ اندھیرا دل تو غزال ہے

3

Download Image

कभी ये शाज़-ओ-नादिर थे रहीं ख़ुश-फ़हमियाँ क्या क्या
मुसलसल हादसे कोई गुमाँ रहने नहीं देते

3

Download Image

کیا ہوا ٹوٹ گیا تو ہے جو ترا دل بھی شاذ
جو کبھی ٹوٹے نہیں کیا حقیقت بھی دل ہوتا ہے

1

Download Image

جاناں سکندر بھی ہوتے تو کیا کرتے شاذ
موت کے سامنے کر بھی کیا سکتے ہوں

0

Download Image

پاؤں سے کانٹا جب ہم نکالیں گے شاذ
لوگ آئیں گے تب دیکھنے کے لیے

0

Download Image

اپنے گنا
ہوں کی سزا اتنی ملی ہے ہم کو شاذ
ہر روز کھاتے ہیں دوائی پھروں بھی ہم ہنستے نہیں

0

Download Image

کامیابی کی طرف کیوں نہیں بڑھتے ہوں شاذ
کون سے خوف کی زنجیر پہن لی جاناں نے

0

Download Image

اپنے ہر زخم کی تصویر بنائی تھی شاذ
پر زما
لگ تو زما
لگ ہے لگ دیکھی ا
سے نے

0

Download Image

اس کا کو بزم ہے وہ ہے وہ ذلیل کر کے خوش لگ ہوں کہ شاذ
کپڑے تری بھی پھٹے ہیں کھینچنے ہے وہ ہے وہ یوں اسے

0

Download Image

ا
سے کا مجھ کو چھوڑنے کا فیصلہ صحیح ہے شاذ
جو حقیقت چاہتی تھی مجھ ہے وہ ہے وہ بات حقیقت ہے ہی نہیں

0

Download Image

ب
سے فقط طلب تھی اک بے وجہ کی مجھے
یار شاذ اندھیرا دل تو غزال ہے

3

Download Image

شاذ کا اصل مطلب کچھ ایسا ہے جو عام طور پر نہیں پایا جاتا، کچھ جو اپنی نایابی یا انفرادیت کی وجہ سے الگ کھڑا ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ لفظ ایک گہری گونج لیتا ہے، صرف غیر معمولی نہیں، بلکہ غیر معمولی اور منفرد کا مشورہ دیتا ہے، حیرت اور تعریف کے احساس کو بیدار کرتا ہے۔

شاذ کا استعمال شاعر اکثر نایاب اور قیمتی کی خوبصورتی کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ خوبصورتی کے ایک لمحاتی لمحے، ایک منفرد جذبات، یا ایک غیر معمولی فرد کی وضاحت کر سکتا ہے۔ یہ لفظ معمولی کے برعکس ہے، موضوع کو غیر معمولی کے دائرے میں بلند کرتا ہے۔

شاعری میں، 'شاذ' غیر معمولی کا جشن بن جاتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نایابی میں جو خوبصورتی ہے۔