Meaning of

خزاں سرشت

shabaab-e-laala-o-gul • शबाब-ए-लाला-ओ-गुल

لالہ و گل کی جوانی; حسن کا عروج

youth of tulip and rose; prime of beauty

लाल और गुलाब की जवानी; सौंदर्य का उत्कर्ष

Persian

یہ فقرہ جوانی کی جاندار اور عارضی خوبصورتی کو بیان کرتا ہے، جسے لالہ اور گل کے شوخ رنگوں اور نازک فطرت سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر حسن کی عارضیت اور وقت کے ناگزیر بہاؤ کی علامت ہوتا ہے۔

شاعر اس فقرے کا استعمال جوانی کی خوبصورتی اور اس کی عارضیت کو پکڑنے کے لیے کرتے ہیں۔ اسے اکثر وقت کے زوال کے ساتھ متضاد طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ پھولوں کی تصویر کشی جذباتی گہرائی کو بڑھانے کا کام کرتی ہے۔

وقت کے رقص میں، حسن لالہ اور گل کی طرح کھلتا اور مرجھاتا ہے۔ شاعر کا دل اس ابدی چکر کو پکڑ لیتا ہے۔