Meaning of

شیش

sheesh • शीश

شیشہ; آئینہ

glass; mirror

काँच; दर्पण

Persian

جب سے سیکھا ہے ہنر شیشہ گری کا ہے وہ ہے وہ نے
ب
سے اسی دن سے یہ دنیا ہے کہ پتھر ہوئی ہے

11

Download Image

تمہارا دل مری دل کے برابر ہوں نہیں سکتا
حقیقت شیشہ ہوں نہیں سکتا یہ پتھر ہوں نہیں سکتا

49

Download Image

سولہ ہزار رانیاں تھی شیام آپ کی
آشیش دیجیے کہ ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک تو ملے

46

Download Image

روز پتھر کی حمایت ہے وہ ہے وہ غزل لکھتے ہیں
روز شیشوں سے کوئی کام نکل پڑتا ہے

43

Download Image

خود کو شیشہ کر لیا ہے یار ہے وہ ہے وہ نے
اب تو تیرا دیکھنا بنتا ہے مجھ کو

32

Download Image

سچ بولنے کے خاموش نہیں رہے
پتھر بے حد ہیں شہر ہے وہ ہے وہ شیشے نہیں رہے

27

Download Image

لے سان
سے بھی آہستہ کہ چھوؤں گا ہے بے حد کام
آفاق کی ا
سے کارگہ شیشہ گری کا

26

Download Image

تو اپنی شیشہ گری کا ہنر لگ کر ضائع
ہے وہ ہے وہ ہے وہ آئی
لگ ہوں مجھے ٹوٹنے کی عادت ہے

26

Download Image

نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
شیشہ مے سرو سبز جو بار نغمہ ہے

21

Download Image

اوڑھ لیا ہے ہے وہ ہے وہ نے لبادہ شیشے کا
اب مجھ کو کسی پتھر سے ٹکرانے دو

15

Download Image

جب سے سیکھا ہے ہنر شیشہ گری کا ہے وہ ہے وہ نے
ب
سے اسی دن سے یہ دنیا ہے کہ پتھر ہوئی ہے

11

Download Image

تمہارا دل مری دل کے برابر ہوں نہیں سکتا
حقیقت شیشہ ہوں نہیں سکتا یہ پتھر ہوں نہیں سکتا

49

Download Image

شیشے کی نازک اور شفاف فطرت کو 'شیش' کے اصل معنی میں بیان کیا گیا ہے۔ شاعری میں، یہ نزاکت اکثر انسانی روح یا جذبات کی علامت بن جاتی ہے، جو نزاکت اور عکاسی کے جوہر کو پکڑتی ہے۔

شاعر اکثر 'شیش' کا استعمال نزاکت اور خود شناسی کے موضوعات کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ محبت کی نازک فطرت یا خود آگاہی کی عکاسی کرنے والی خصوصیت کی نمائندگی کر سکتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'شیش' روح کا آئینہ بن جاتا ہے، جو اس کی خوبصورتی اور نزاکت دونوں کو عکاسی کرتا ہے۔