Meaning of

شہر پرہول

shehar-e-pur-haul • शहर-ए-पुर-हौल

خوف سے بھرا شہر; منحوس شہر

city full of dread; ominous city

भय से भरा शहर; अशुभ शहर

Persian

یہ فقرہ ایک ایسے شہر کی تصویر پیش کرتا ہے جو سائے میں لپٹا ہوا ہے، جہاں ہر گوشہ خوف اور بدشگونی کی سرگوشیاں کرتا محسوس ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ ایک ایسی جگہ کا جوہر پکڑتا ہے جہاں فضا میں بےچینی بھری ہوتی ہے اور گلیاں خاموش چیخوں سے گونجتی ہیں۔

شاعر اکثر اس فقرے کا استعمال داخلی یا خارجی ہلچل کے منظر کو پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ذاتی جدوجہد یا وسیع تر سماجی تناؤ کی علامت ہو سکتا ہے۔ شہر ذہن کی بھول بھلیاں یا افراتفری کے دہانے پر کھڑے دنیا کا استعارہ بن جاتا ہے۔

اپنی سایوں میں، شہر روح کے گہرے خوف کا آئینہ ہے۔ یہ ایک جگہ بھی ہے اور ایک احساس بھی، جو دل کے خاموش گوشوں میں بسی رہتی ہے۔