Meaning of

شہر ستم ساز

shehar-e-sitam-saaz • शहर-ए-सितम-साज़

ستم کا شہر; ظلم کا شہر

city of oppression; city of tyranny

अत्याचार का शहर; ज़ुल्म का शहर

Persian

یہ فقرہ ناانصافی اور ظلم میں ڈوبی ہوئی جگہ کی تصاویر کو ابھارتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر زندگی کی سخت حقیقتوں یا معاشرے کی ظالمانہ ساختوں کے لئے ایک استعارہ کے طور پر کام کرتا ہے۔

شاعر اس کا استعمال معاشرتی اصولوں کی تنقید کرنے اور ظلم کے خلاف جدوجہد کو اجاگر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ اندرونی ظلم کے خلاف ذاتی جدوجہد کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

شہر ستم ساز ظلم کے سائے میں قائم انسانی روح کی پائیداری کا ثبوت ہے۔