Meaning of

شکوہ

shiqwa • शिक़वा

شکایت; نوحہ; گلہ

complaint; lament; grievance

शिकायत; विलाप; गिला

Arabic

پھروں وہی رونا محبت ہے وہ ہے وہ گلہ شکوہ ج
ہاں سے
رسم ہے ب
سے ا
سے
لیے بھی جاناں کو سال نو مبارک

17

Download Image

غم فرقت کا شکوہ کرنے والی
مری موجودگی ہے وہ ہے وہ سو رہی ہے

130

Download Image

ویسے ایک شکوہ تھا جاناں سے
اچھا چھوڑو عید مبارک

67

Download Image

دل کی تکلیف کم نہیں کرتے
اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے

65

Download Image

کوئی شکوہ لگ کرے بہتے ہوئے پانی سے
کشتیاں ڈوبی ہیں کچھ اپنی ہی من مانی سے

35

Download Image

بیٹھ کر بات کی اور جدا ہوں گئے
کوئی شکوہ نہیں کوئی جھگڑا نہیں

32

Download Image

اب ساتھ نہیں ہے بھی تو شکوہ نہیں اندھیرا
احسان بھی مجھ پر مری بھائی کے بے حد تھے

29

Download Image

شاد غیر ممکن ہے شکوہ بتاں مجھ سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ج
سے سے الفت کی ا
سے کو با وفا پایا

21

Download Image

پہلے یہ شکر کہ ہم حد ادب سے لگ بڑھے
اب یہ شکوہ کہ شرافت نے کہی کا لگ رکھا

20

Download Image

تمام شہر کو تاری
کیوں سے شکوہ ہے
م
گر چراغ کی تعلق خاطر سے خوف آتا ہے

19

Download Image

پھروں وہی رونا محبت ہے وہ ہے وہ گلہ شکوہ ج
ہاں سے
رسم ہے ب
سے ا
سے
لیے بھی جاناں کو سال نو مبارک

17

Download Image

غم فرقت کا شکوہ کرنے والی
مری موجودگی ہے وہ ہے وہ سو رہی ہے

130

Download Image

شکوہ شکایت یا نوحہ کی احساس کو ظاہر کرتا ہے، جو اکثر محبوب یا الہی ہستی کی طرف ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ دل کے ان کہے غموں اور روح کی خاموش چیخوں کو پکڑتا ہے۔

شاعر 'شکوہ' کا استعمال اپنی گہری شکایات کو ظاہر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ اکثر نامکمل خواہشات اور جدائی کے درد کے بارے میں اشعار میں ظاہر ہوتا ہے۔

شکوہ دل کا خاموش احتجاج ہے، ایک نوحہ جو سمجھ کی تلاش کرتا ہے۔ یہ تڑپ اور قبولیت کے درمیان پل ہے۔