Meaning of

شور دریا

shor-e-dariya • शोर-ए-दरिया

دریا کا شور; دریا کا ہنگامہ

noise of the river; tumult of the river

नदी का शोर; नदी का कोलाहल

Persian

یہ فقرہ دریا کی مسلسل اور طاقتور آواز کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر فطرت کی ناقابل تسخیر قوت اور انسانی جذبات کے اندرونی ہنگامے کی علامت ہوتا ہے۔ دریا کا شور زندگی کے مسلسل بہاؤ اور روح کے اندر کے انتشار کا استعارہ بن جاتا ہے۔

شاعر اس فقرے کا استعمال فطرت کی زبردست موجودگی کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اسے اکثر خاموشی کے ساتھ متضاد طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اندرونی بے چینی کو اجاگر کیا جا سکے۔ دریا کا شور بیرونی انتشار اور اندرونی غور و فکر دونوں کی علامت ہو سکتا ہے۔

دریا کے شور میں، انسان کو دنیا کی افراتفری اور خود شناسی کی خاموشی دونوں ملتی ہیں۔