Meaning of
ستم بار
sitam-baar • सितम-बार
Urdu
ستم سے بوجھل; ظلم سے بھرا
English
burdened with oppression; laden with cruelty
Hindi
अत्याचार से लदा; क्रूरता से भरा
Origin
Persian
Nuance
یہ لفظ زندگی کی ناانصافیوں اور سختیوں سے دبے ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر خاموشی سے برداشت کرنے والے دکھوں کی علامت ہوتا ہے، جہاں دل ان کہے غموں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔
Poetic Usage
شاعر اس کا استعمال ظلم کے تحت روح کی بھاری پن کو ظاہر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ ہلکے پن اور آزادی کے الفاظ کے برعکس ہوتا ہے، جو ظلم اور آزادی کی خواہش کے درمیان جدوجہد کو نمایاں کرتا ہے۔
Closing Insight
اپنے جوہر میں، 'ستم بار' زندگی کی ظلمتوں کے خلاف خاموش مزاحمت کو پکڑتا ہے۔ یہ ان لوگوں کی مستقل روح کا ثبوت ہے جو دنیا کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔