Meaning of
ستم رسیدہ
sitam-raseeda • सितम-रसीदा
Urdu
ستایا ہوا; مظلوم
English
oppressed; afflicted
Hindi
पीड़ित; सताया हुआ
Origin
Persian
Nuance
ستم رسیدہ لفظ گہرے دکھ اور صبر کی کیفیت کو بیدار کرتا ہے۔ اپنے اصل معنی میں، یہ کسی ایسے شخص کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ظلم یا جبر کا شکار ہوا ہو۔ شاعری نے اس لفظ کو برداشت اور مشکلات کو جھیلنے میں پائی جانے والی خاموش طاقت کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لیے اپنایا ہے۔
Poetic Usage
شاعر اکثر 'ستم رسیدہ' کا استعمال ان کرداروں کو پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں جنہوں نے زندگی کی مشکلات کا سامنا خاموش وقار کے ساتھ کیا ہے۔ یہ لفظ کھلے بغاوت کو ظاہر کرنے والے الفاظ کے برعکس ہے، بلکہ خاموش برداشت میں موجود عظمت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ لفظ طوفانوں سے گھری لیکن نہ ٹوٹنے والی روح کی جاندار تصویر پیش کرتا ہے۔
Closing Insight
شاعری کی دنیا میں، 'ستم رسیدہ' خاموش طاقت کی علامت بن جاتا ہے۔ یہ ہمیں برداشت میں پائی جانے والی خوبصورتی اور زندگی کے طوفانوں کو جھیلنے کی خاموش طاقت کی یاد دلاتا ہے۔