Meaning of

سوغات

soghat • सौग़ात

تحفہ; ہدیہ; نذرانہ

gift; present; offering

उपहार; भेंट; नजराना

Persian

پریم کے سوغات تھے ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
جاناں نے کیول قافیہ دیکھا

0

Download Image

سو ملیں زندگی سے سوغاتیں
ہم کو آوارگی ہی را
سے آئی

33

Download Image

کیسے بتاؤں ہے وہ ہے وہ یہ غم ب
سے دیتے ہوں سوغات ہے وہ ہے وہ ہے وہ
مجھ کو نہیں اب چاہیے یہ پیار بھی خیرات ہے وہ ہے وہ

4

Download Image

متحد سوغات کر کے کل ج
ہاں کی
ہند کو سب کچھ خدا نے دے دیا ہے

3

Download Image

اشاروں اشاروں ہے وہ ہے وہ پھروں بات ہوں گی
جو محفل ہے وہ ہے وہ ان سے ملاقات ہوں گی

جب آئیں گے آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو ہماری
صنم حقیقت محبت کی سوغات ہوں گی

1

Download Image

ملی سو سوغاتیں زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
مجھے ب
سے ایک تو ہی را
سے آئی

1

Download Image

یاد ہم کو آج بھی سوغات ہے
جو ہماری آخری ہی بات ہے

1

Download Image

لڑکی مجھ پر کچھ سوغاتیں کر
کچھ پل تو مجھ سے بھی باتیں کر

ہے وہ ہے وہ ہے وہ دن میرا تیرا کرتا ہوں
تو بھی مری اپنی راتیں کر

1

Download Image

مجھے آج بھی یاد ہے بات تیری
ملی تھی مجھے یار سوغات تیری

1

Download Image

دھوکہ تو بول کے دیتے ہیں
موقع تو تول کے دیتے ہیں

ایسے تو ٹھیک ہیں باتیں پر
باندھنی کھول کے دیتے ہیں

0

Download Image

پریم کے سوغات تھے ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
جاناں نے کیول قافیہ دیکھا

0

Download Image

سو ملیں زندگی سے سوغاتیں
ہم کو آوارگی ہی را
سے آئی

33

Download Image

سوغات اصل میں ایک تحفہ یا ہدیہ کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو محبت یا احترام کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ شاعری میں، یہ دینے کی گرمجوشی اور دینے والے اور وصول کنندہ کے درمیان جذباتی تبادلے کو ظاہر کرتا ہے، اکثر محبت، شکرگزاری یا مفاہمت کی علامت ہوتا ہے۔

شاعر 'سوغات' کا استعمال دینے اور وصول کرنے کی خوبصورتی کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر محبت کے بارے میں اشعار میں ظاہر ہوتا ہے، جہاں ایک سادہ تحفہ گہرے جذباتی رشتوں کی علامت بن جاتا ہے۔ یہ مادی دولت کے برعکس ہے، دل سے کیے گئے اشاروں کی قدر کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں، 'سوغات' اپنے لغوی معنی سے آگے بڑھ کر دل کے غیر مادی تحفوں کی علامت بن جاتا ہے۔