Meaning of
صبح بہار و شام خزاں
subh-e-bahaar-o-shaam-e-khizaan • सुब्ह-ए-बहार-ओ-शाम-ए-ख़िज़ाँ
Urdu
صبح بہار اور شام خزاں
English
morning of spring and evening of autumn
Hindi
वसंत की सुबह और पतझड़ की शाम
Origin
Persian
Nuance
یہ عبارت فطرت کے چکروں کی عارضی خوبصورتی کو پکڑتی ہے۔ بہار کی صبح کی تازگی خزاں کی شام کی اداس خوبصورتی کے ساتھ متضاد ہوتی ہے، جو زندگی کی دوگانگی کو ظاہر کرتی ہے۔
Poetic Usage
شعراء اس کا استعمال وقت کے گزرنے اور تبدیلی کی مٹھاس اور تلخی کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ خوشی اور غم، آغاز اور اختتام کے درمیان توازن کی علامت ہو سکتا ہے۔
Closing Insight
شاعری میں، فطرت کے چکر دل کے چکروں کی عکاسی کرتے ہیں، ہر موسم اپنی خاص تحفہ لاتا ہے۔