Meaning of

صلح

sulh • सुलह

امن; مصالحت; صلح

peace; reconciliation; truce

शांति; मेल-मिलाप; संघर्षविराम

Arabic

صلح کر ہی لو ابھی سے جاناں ہوا سے
زلف ہے وہ ہے وہ طے ہے گرفتاری تمہاری

1

Download Image

جو دوست ہیں حقیقت مانگتے ہیں صلح کی دعا
دشمن یہ چاہتے ہیں کہ آپ
سے ہے وہ ہے وہ جنگ ہوں

37

Download Image

گزشتہ سال کوئی مصلحت رہی ہوں گی
گزشتہ سال کے سکھ اب کے سال دے مولا

28

Download Image

بوسہ لیا جو ا
سے لب شیریں کا مر گئے
دی جان ہم نے مصلحت پر

27

Download Image

تمام ہوش ضبط علم مصلحت کے بعد بھی
پھروں اک غلطیاں ہے وہ ہے وہ کر گیا تو تھا معذرت کے بعد بھی

23

Download Image

دشمنوں سے مل کے ا
سے نے اک نیا لشکر بنایا
ہار جب دشمن گیا تو تو صلح کا اوصر بنایا

15

Download Image

یہ دکھ نہیں کہ اندھیرو سے صلح کی ہم نے
ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں

13

Download Image

لگاؤں حاضری ہے وہ ہے وہ بھی سمے سے
کسی سکول ہے وہ ہے وہ داخل کرا دو

صلح نامہ لیے در پہ کھڑا ہوں
مقدمہ کورٹ سے خارج کرا دو

2

Download Image

صلح نامہ پہ ہستاکشر کروں اب
لڑائی صرف اک رستہ نہیں ہے

2

Download Image

مصلحت ختم ہوتی ہے
اہمیت ختم ہوتی ہے

2

Download Image

صلح کر ہی لو ابھی سے جاناں ہوا سے
زلف ہے وہ ہے وہ طے ہے گرفتاری تمہاری

1

Download Image

جو دوست ہیں حقیقت مانگتے ہیں صلح کی دعا
دشمن یہ چاہتے ہیں کہ آپ
سے ہے وہ ہے وہ جنگ ہوں

37

Download Image

'صلح' لفظ امن اور مصالحت کے نرم وزن کو اٹھاتا ہے۔ اپنی اصل میں، یہ تنازعہ کے خاتمے اور ہم آہنگی کے گلے ملنے کی بات کرتا ہے۔ شاعری اکثر اس احساس کو گہرائی سے بیان کرتی ہے، حل کے بعد کی اندرونی سکون اور طوفانوں کے بعد کی خاموشی کا جائزہ لیتی ہے۔

شاعر 'صلح' کا استعمال حل شدہ تنازعات کی سکونت کو بیدار کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر افراتفری کے برعکس ہوتا ہے، امن کی خوبصورتی کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ لفظ ذاتی مصالحتوں اور اندرونی سکون کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

شاعری میں، 'صلح' امن میں پائی جانے والی خوبصورتی کی نرم یاد دہانی ہے۔ یہ مصالحت کی خاموش طاقت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔