Meaning of

تابش

taabish • ताबिश

چمک; روشنی

glow; radiance

चमक; दीप्ति

Arabic

بھول جانا نہیں رہا تابش
حقیقت دیوا
لگ نہیں رہا تابش

زندگی کا سلوک مری ساتھ
دوستا
لگ نہیں رہا تابش

ہم کی زار ہیں کیونکہ رونے کو
کوئی شا
لگ نہیں رہا تابش

0

Download Image

من ہے وہ ہے وہ ایک ارادہ ہوتا ہے تابش
راجا پہلے پیادہ ہوتا ہے تابش

مانتا ہوں مجبوریاں تھیں کچھ دقت تھی
پر وعدہ تو وعدہ ہوتا ہے تابش

75

Download Image

ایک ہی بار نظر پڑتی ہے ان پر تابش
اور پھروں حقیقت ہی لگاتار نظر آتے ہیں

56

Download Image

ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابش
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

42

Download Image

مری شہرت کے تقاضے ہی ا
پیش تھے تابش
گمشدہ رہتے ہوئے نام کمانا تھا مجھے

40

Download Image

یار اک بار پرندوں کو حکومت دے دو
یہ کسی شہر کو مقتل نہیں ہونے دیں گے

یہ جو چہرے ہیں ی
ہاں چاند سے چہرے تابش
یہ میرا عشق مکمل نہیں ہونے دیں گے

37

Download Image

جن پہ ہوتا ہے بے حد دل کو بھروسا تابش
سمے پڑھنے لگیں پہ وہی لوگ دغا دیتے ہیں

16

Download Image

مرے ہوئے پودوں ہے وہ ہے وہ بھی جان پھونک دے اک بار
اتنی طاقت ہوتی ہے یادوں کی تابش ہے وہ ہے وہ

0

Download Image

بھول جانا نہیں رہا تابش
حقیقت دیوا
لگ نہیں رہا تابش

زندگی کا سلوک مری ساتھ
دوستا
لگ نہیں رہا تابش

ہم کی زار ہیں کیونکہ رونے کو
کوئی شا
لگ نہیں رہا تابش

0

Download Image

من ہے وہ ہے وہ ایک ارادہ ہوتا ہے تابش
راجا پہلے پیادہ ہوتا ہے تابش

مانتا ہوں مجبوریاں تھیں کچھ دقت تھی
پر وعدہ تو وعدہ ہوتا ہے تابش

75

Download Image

’تابش‘ لفظ روشنی اور گرمی کے جوہر کو پکڑتا ہے، اکثر سورج کی چمک یا کسی شخص کی اندرونی روشنی کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ شاعری میں یہ زندگی اور چمک کا احساس دلاتا ہے۔

شاعر ’تابش‘ کا استعمال امید اور زندگی کے موضوعات کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ نئے دن کی شروعات، تحریک کی چنگاری، یا محبت کی چمک کو بیان کر سکتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، ’تابش‘ زندگی کے روشن لمحات کے مینار کے طور پر چمکتا ہے۔