Meaning of

طبع

taba • तब्अ

مزاج; طبیعت; فطرت

nature; temperament; disposition

स्वभाव; मिज़ाज; प्रवृत्ति

Arabic

محبت دوسری کوشش ہے وہ ہے وہ پہلی مرتبہ ہوں گی
وہی سکول کی لڑکی مری قائم ہے وہ ہے وہ آئی ہے

36

Download Image

کوئی دقت نہیں ہے گر تمہیں الجھا سا لگتا ہوں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی مرتبہ ملنے ہے وہ ہے وہ سب کو ایسا لگتا ہوں

ضروری تو نہیں ہم ساتھ ہیں تو کوئی چکر ہوں
حقیقت مری دوست ہے اور ہے وہ ہے وہ اسے ب
سے اچھا لگتا ہوں

523

Download Image

ہے وہ ہے وہ بھی بے حد عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ ب
سے
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

152

Download Image

ہونٹ تبسم سے گیلے ہیں جاناں
زبان جاناں نے کچھ میٹھا سوچا ہے

57

Download Image

ایک ہی تو ہوں
سے رہی ہے ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
اپنی حالت تباہ کی جائے

57

Download Image

تمہارے پا
سے آتے ہیں تو سانسیں بھیگ جاتی ہیں
محبت اتنی ملتی ہے کہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

تبسم عطر جیسا ہے ہنسی برسات جیسی ہے
حقیقت جب بھی بات کرتی ہے تو باتیں بھیگ جاتی ہیں

52

Download Image

جھکے تو جنت اٹھے تو خنجر
کریں گی ہم کو تباہ آنکھیں

40

Download Image

اپنی تباہیوں کا مجھے کوئی غم نہیں
جاناں نے کسی کے ساتھ محبت نبھا تو دی

40

Download Image

ذکر جب ہوگا محبت ہے وہ ہے وہ تباہی کا کہی
یاد ہم آئیں گے دنیا کو حوالوں کی طرح

38

Download Image

ذکر تبسم کا آتے ہی لگتے ہیں اترانے لوگ
اور ذرا سی ساز آرزو لگی تو جا پہنچے مے خانے لوگ

37

Download Image

محبت دوسری کوشش ہے وہ ہے وہ پہلی مرتبہ ہوں گی
وہی سکول کی لڑکی مری قائم ہے وہ ہے وہ آئی ہے

36

Download Image

کوئی دقت نہیں ہے گر تمہیں الجھا سا لگتا ہوں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی مرتبہ ملنے ہے وہ ہے وہ سب کو ایسا لگتا ہوں

ضروری تو نہیں ہم ساتھ ہیں تو کوئی چکر ہوں
حقیقت مری دوست ہے اور ہے وہ ہے وہ اسے ب
سے اچھا لگتا ہوں

523

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'طبع' کسی شخص کی فطری مزاج یا طبیعت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ وہ جوہر ہے جو کسی کے ردعمل اور دنیا کے ساتھ تعاملات کو متعین کرتا ہے۔ شاعری میں، اس لفظ کا استعمال اکثر انسانی جذبات اور کردار کی گہرائیوں کو تلاش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جو کسی کے اعمال اور خیالات کو متاثر کرنے والی شخصیت کی لطیف تہوں کو ظاہر کرتا ہے۔

شاعر اکثر 'طبع' کا استعمال انسانی فطرت کی پیچیدگیوں میں گہرائی سے اترنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ عاشق کی نرم مزاجی، باغی کی جوشیلی طبیعت، یا فلسفی کی غور و فکر کی فطرت کو بیان کر سکتا ہے۔ یہ لفظ کرداروں کی اندرونی دنیا کو عکاسی کرنے والا آئینہ بنتا ہے، جس سے قارئین اپنی جذبات سے جڑ سکتے ہیں۔

شاعری کی دنیا میں، 'طبع' روح کی کھڑکی بن جاتا ہے، جو خود شناسی اور ہمدردی کو دعوت دیتا ہے۔ یہ مشترکہ انسانی تجربے کی ایک نرم یاد دہانی ہے۔