Meaning of

تڑپے

tadpe • तड़पे

تڑپنا; تڑپ

to writhe; to yearn

तड़पना; तृष्णा

Sanskrit

کانہا بھی تڑ
پہ تھے رادھا کی خاطر
ہم بھی جاناں تری خاطر تڑ
پہ ہیں

4

Download Image

ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو تر ب تر کرنے کسی دن آئےگا بادل
لگ جانے کن غریبوں کے گھروں کو کھائےگا بادل

ستارے تم تم نوچ لاوں گا کسی دن ضد پہ آیا تو
ابھی گردش ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں بے حد اتراے گا بادل

یہ ساری مچھلیاں جب بد دعا دینے لگیںگی تب
سمندر پیا
سے سے یوم وعدہ اور مر جائےگا بادل

کہی پر کم کہی زیادہ یہ کیسا فیصلہ تیرا
سنبھل جا سمے ہے ورنا بے حد پچھتائے گا بادل

منہافق ہے یہ راتوں کا کسی کو بھی نہیں بخشش
جوانی زلف آنکھیں اور کیا کیا کھائےگا بادل

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں جو تجھے سر پہ چڑھاکر پھرتے رہتے ہیں
کشادہ ظرف کر لیں ہم تو کیا ٹک پائے گا بادل

7

Download Image

چاند تاروں کو تکنا تو کچھ بھی نہیں
رات کو ایسے جگنا تو کچھ بھی نہیں

تڑ
پہ تھے رام بھی ج
ان کی کے لیے
پھروں ہمارا تڑپنا تو کچھ بھی نہیں

4

Download Image

کانہا بھی تڑ
پہ تھے رادھا کی خاطر
ہم بھی جاناں تری خاطر تڑ
پہ ہیں

4

Download Image

ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو تر ب تر کرنے کسی دن آئےگا بادل
لگ جانے کن غریبوں کے گھروں کو کھائےگا بادل

ستارے تم تم نوچ لاوں گا کسی دن ضد پہ آیا تو
ابھی گردش ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں بے حد اتراے گا بادل

یہ ساری مچھلیاں جب بد دعا دینے لگیںگی تب
سمندر پیا
سے سے یوم وعدہ اور مر جائےگا بادل

کہی پر کم کہی زیادہ یہ کیسا فیصلہ تیرا
سنبھل جا سمے ہے ورنا بے حد پچھتائے گا بادل

منہافق ہے یہ راتوں کا کسی کو بھی نہیں بخشش
جوانی زلف آنکھیں اور کیا کیا کھائےگا بادل

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں جو تجھے سر پہ چڑھاکر پھرتے رہتے ہیں
کشادہ ظرف کر لیں ہم تو کیا ٹک پائے گا بادل

7

Download Image

تڑپے کا لفظ گہری تڑپ اور بے چینی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ اپنی اصل میں یہ جسمانی یا جذباتی تڑپ کو بیان کرتا ہے، ایک ایسی حالت جس میں سکون نہیں ملتا۔ شاعری میں اس لفظ کو اپنایا گیا ہے تاکہ انسانی دل میں اٹھنے والی گہری اور اکثر نامکمل تڑپ اور خواہش کو بیان کیا جا سکے۔

شاعر اکثر 'تڑپے' کا استعمال غیر حاصل شدہ محبت کی شدت کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ عاشق کے دل کی ہلچل کو پینٹ کرتا ہے۔ یہ لفظ سکون کے برعکس ہے، اندرونی افراتفری کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں، 'تڑپے' روح کی ناقابل بیان درد کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ اس تڑپ کے جوہر کو پکڑتا ہے جو الفاظ سے ماورا ہے۔