Meaning of

تمس

tamas • तमस

اندھیرا; جہالت

darkness; ignorance

अंधकार; अज्ञान

Sanskrit

کیا تماشا ہے کہ سب مجھ کو برا کہتے ہیں
اور سب چاہتے ہیں مری طرح کا ہونا

27

Download Image

بھلے دنیا جلا ڈالے مداری
تمہیں تو ب
سے تماشا دیکھنا ہے

66

Download Image

کیا جاناں تب بھی ایسے ہی چپ چاپ تماشا دیکھوگے
ا
سے مشکل ہے وہ ہے وہ پھنسنے والی ا
گر تمہاری بیٹی ہوں

64

Download Image

ہم سے پھروں پیار کا اظہار کیا ہے جاناں نے
یہ تماشا تو کئی بار کیا ہے جاناں نے

54

Download Image

جائیے اب گھر پہ جا کے روئیے
آپ کے ب
سے کا تماشا بھی نہیں

43

Download Image

شہرت کی بلن
گرا بھی پل بھر کا تماشا ہے
ج
سے ڈال پہ بیٹھے ہوں حقیقت ٹوٹ بھی سکتی ہے

41

Download Image

کھلتے کھلتے رہ گئی مری زبان ہوتے ہوتے
اک تماشا وہسّت رہ گیا تو

37

Download Image

چنو پتوار سفینے کے لیے ہوتے ہیں
دوست احباب تو جینے کے لیے ہوتے ہیں
عشق ہے وہ ہے وہ کوئی تماشا نہیں کرنا ہوتا
اشک چنو بھی ہوں پینے کے لیے ہوتے ہیں

35

Download Image

آئی
لگ کیوں لگ دوں کہ تماشا کہی جسے
ایسا ک
ہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہی جسے

30

Download Image

لب دریا پہ دیکھ آ کر تماشا آج ہولی کا
بھنور کالے کے دف باجے ہے موج اے یار پانی ہے وہ ہے وہ

29

Download Image

کیا تماشا ہے کہ سب مجھ کو برا کہتے ہیں
اور سب چاہتے ہیں مری طرح کا ہونا

27

Download Image

بھلے دنیا جلا ڈالے مداری
تمہیں تو ب
سے تماشا دیکھنا ہے

66

Download Image

تمس ایک گہرے اندھیرے اور نامعلوم کی احساس کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر اس اندرونی تاریکی کی علامت ہوتا ہے جو انسانی روح کو ڈھانپ لیتی ہے، جو لفظی اور استعاراتی دونوں اندھے پن کی نمائندگی کرتا ہے۔

شاعر تمس کا استعمال جہالت اور روشنی کے موضوعات کو تلاش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اسے اکثر روشنی اور علم کے ساتھ متضاد رکھا جاتا ہے، جو امید اور مایوسی کے درمیان ایک متحرک کشیدگی پیدا کرتا ہے۔

تمس اندرونی جدوجہد کا استعارہ ہے، جو اندھیرے سے روشنی کی سفر کی دعوت دیتا ہے۔ یہ سمجھ کی انسانی تلاش پر ایک لازوال عکاسی ہے۔