Meaning of

موتی

tameez-e-laala-o-gul • तमीज़-ए-लाला-ओ-गुल

لالہ اور گلاب کی تمیز; باریک فرق

discernment of tulip and rose; subtle distinction

लाल और गुलाब की पहचान; सूक्ष्म भेद

Persian

تم پر جنتا ہے بھولاپن
ماتھے پر موتی کے جیسے

0

Download Image

آنسو ہمارے گر گئے ان کی نگاہ سے
ان موتیوں کی اب کوئی قیمت نہیں رہی

22

Download Image

جو موتیوں کی طلب نے کبھی ادا
سے کیا
تو ہم بھی راہ سے کنکر سمیٹ لائے بے حد

9

Download Image

پتلیوں ہے وہ ہے وہ گھلا سمندر ہے
موتیوں کی دکان آنکھیں ہیں

آپ تحقیق ہی نہیں کرتے
سب خزانوں کی خان آنکھیں ہیں

3

Download Image

چلا آیا مکان خالی کرا کر ہے وہ ہے وہ ہے وہ
جلے ہیں آشیانے موتی کے بھی

3

Download Image

ہے وہی کشتی پرانی ہے وہی دریا میرا
جس پہ تو آنے نہ پایا ہے وہی رستہ میرا

میں مری مصروفیت سے تنگ آ جاتا ہوں دوست
مجھ کو سینے سے لگا کے وقت کر ضائع میرا

اپنی وحشت کا تقاضا ڈھونڈتا ہوں در بدر
لے گیا ہے کوہکن جس روز سے تیشہ میرا

یاد کر कूचा-नवर्दी,یاد کر الفت کے دن
یاد کر باتیں میری اور یاد کر چہرہ میرا

جب ہوائیں تھک گئیں تھیں کوششیں کر دشت میں
ریت تب رقصاں ہوئی تھی چوم کر سایہ میرا

بارشوں کو موسموں کا کھیل سب کہتے ہیں پر
رو پڑے تھے موتی جان کر قصہ میرا

آنکھ وہ ہنستی رہی تو کھیل اٹھے سوکھے گلاب
آنکھ وہ رونے لگی تو رو پڑا صحرا میرا

خسروان شہر میں ہو جاؤں گا اک لمس سے
اور فقط اک دید سے بھر جائےگا کاسا میرا

میں کتابوں کے جہاں کا ایک خوش قسمت کتاب
ناو بچوں نے بنایا پھاڑ کر صفحہ میرا

اس نظر کو خواہشوں کا شوق دے میرا خیال
اس جبیں کو روشنی دیتا رہے بوسہ میرا

میں مسلسل بند کرتا ہوں مگر پھروں دم ب دم
یاد اس کی کھولتی جاتی ہے دروازہ میرا

0

Download Image

مقدر تو بھرا ہے موتیوں سے
کمی ہے صرف تیری کوششوں کی

0

Download Image

کیوں کوئی کوکھ جو سونی ہو وہ شرمندہ ہو
کیا ضروری ہے کہ ہر سیپ سے موتی نکلے

0

Download Image

ماں کی گالی دے کر ہٹ ہو جاتے ہیں
اس کل یگ میں کوا موتی تقاضا ہے

0

Download Image

وہ جب یہاں تھا تو ہم دیکھتے نہ تھے اس کو
وہ جا رہا ہے تو ہم موتی بدلتے ہیں

0

Download Image

تم پر جنتا ہے بھولاپن
ماتھے پر موتی کے جیسے

0

Download Image

آنسو ہمارے گر گئے ان کی نگاہ سے
ان موتیوں کی اب کوئی قیمت نہیں رہی

22

Download Image

اس فقرے کا اصل مفہوم باریک فرقوں اور نزاکتوں کو پہچاننے کی صلاحیت سے وابستہ ہے، جیسے لالہ اور گلاب کی نازک خوبصورتی کے درمیان فرق کرنا۔ شاعری میں، یہ نفیس بصیرت اور حساسیت کے احساس کو بیدار کرتا ہے۔

شاعر اکثر اس فقرے کا استعمال نزاکت اور تمیز کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اس کا استعمال واضح اور پوشیدہ، بلند اور خاموش، یا جری اور نازک کے درمیان فرق ظاہر کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

یہ فقرہ نزاکت کی خوبصورتی اور فطرت و انسانی تجربے میں تمیز کی فن پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔