Meaning of

تپسیا

tapasya • तपस्या

تپ; دھیان; روحانی مشق

penance; meditation; spiritual practice

तप; ध्यान; आध्यात्मिक साधना

Sanskrit

شب و غمی روز کی چاکری زندگی کی
میسر ہوئیں روٹیاں دو گھڑی کی

نہیں کام آئیں جو اک دن مشینیں
ضرورت بنے آدمی آدمی کی

کہ کل شام فرصت ہے وہ ہے وہ آئی اداسی
بتا دی مجھے قیمتیں ہر خوشی کی

کیا کیا امن جی نے باعث برس ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کبھی جی لیا تو کبھی خود کشی کی

غموں کو ٹھکانے لگاتے لگاتے
گھڑی آ گئی آدمی کے اوپچارکتا کی

یہ ساری تپسیا کا کارن یہی ہے
مثالیں بنیں تو بنیں سادگی کی

2

Download Image

ستی سی تپسیا کروں جاناں
جو چاہت تمہیں سچ ہوں ش
یوں کی

4

Download Image

اک تپسیا یہ ودودھتا ہی بنےگی شکتی اپنی
اک یہ پریبھاشا بنے بس دیش بھر ہے وہ ہے وہ بھکتی اپنی

2

Download Image

شب و غمی روز کی چاکری زندگی کی
میسر ہوئیں روٹیاں دو گھڑی کی

نہیں کام آئیں جو اک دن مشینیں
ضرورت بنے آدمی آدمی کی

کہ کل شام فرصت ہے وہ ہے وہ آئی اداسی
بتا دی مجھے قیمتیں ہر خوشی کی

کیا کیا امن جی نے باعث برس ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کبھی جی لیا تو کبھی خود کشی کی

غموں کو ٹھکانے لگاتے لگاتے
گھڑی آ گئی آدمی کے اوپچارکتا کی

یہ ساری تپسیا کا کارن یہی ہے
مثالیں بنیں تو بنیں سادگی کی

2

Download Image

ستی سی تپسیا کروں جاناں
جو چاہت تمہیں سچ ہوں ش
یوں کی

4

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'تپسیا' اعلیٰ شعور کے حصول کے لیے کی جانے والی شدید نظم و ضبط اور روحانی مشقوں کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ ایک تنہا متلاشی کی تصویر کو ابھارتا ہے، جو سچائی اور روشنی کی تلاش میں محو ہوتا ہے، اکثر فطرت کے پرسکون پس منظر میں۔

شاعر اکثر 'تپسیا' کا استعمال اندرونی جدوجہد اور تبدیلی کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ تاریکی سے روشنی، جہالت سے حکمت تک کے سفر کی علامت ہے۔ یہ لفظ دنیاوی لذتوں کے برعکس ہو سکتا ہے، جو روحانی ترقی کے لیے درکار قربانی اور لگن کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'تپسیا' روح کے بیداری کی لازوال تلاش کی علامت ہے۔ یہ انسانی روح کی پائیداری کا ثبوت ہے۔