Meaning of

قبائیں

taraash • तराश

تراشنا; شکل دینا

carving; shaping

तराशना; आकार देना

Persian

اتنا یقین خدا نے جاناں کو قبائیں کر پھروں
اک بار ہاتھ اپنے چومے ضرور ہوں گے

3

Download Image

حقیقت ناسمجھ مجھے پتھر سمجھ کے چھوڑ گیا تو
حقیقت چاہتا تو ستارے تم تراشتا مجھ سے

25

Download Image

جاناں جو ہنستی ہوں تو مستا
لگ کنول لگتی ہوں
میر کا شعر ہوں تاکتے کی غزل لگتی ہوں

سنگ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
سان
سے لیتا ہوا اک تاجمحل لگتی ہوں

9

Download Image

ایک ب
سے تو ہی نہیں مجھ سے خفا ہوں بیٹھا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جو سنگ تراشا تھا خدا ہوں بیٹھا

8

Download Image

تراشا گیا تو تھا گلی سے اٹھا کر
حقیقت پتھر جو اب تو خدا ہوں چکا تھا

5

Download Image

ہر ایک اجازت سے حسین اجازت ہے یہ محبت بھی
قبائیں دے جو یہ پتھر کو بھی خدا کر دے

4

Download Image

کسی بھی بے وجہ کے جھوٹے دلاسے ہے وہ ہے وہ نہیں آتی
کہانی ہوں ا
گر لمبی تراشے ہے وہ ہے وہ نہیں آتی

ج
ہاں ہے وہ ہے وہ اب ک
ہاں کوئی جو مجنوں کی طرح چاہے
محبت ا
سے
لیے بھی اب تماشے ہے وہ ہے وہ نہیں آتی

4

Download Image

مجھے ہر ہاتھ نے کچھ ا
سے طرح سے اب تراشا ہے
لگ مجھ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہ گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ کہی باقی مری جیسا

4

Download Image

مکمل ہوتے ہی بت نے کہا آذر سے یوں اپنے
تراشا تو نے مجھ کو تو کیا احسان نہیں کوئی

4

Download Image

ا
گر خدا مشعل جاں پتھر کو قبائیں کے
پھروں تو ہر انسان خدا کا خدا ہوتا

3

Download Image

اتنا یقین خدا نے جاناں کو قبائیں کر پھروں
اک بار ہاتھ اپنے چومے ضرور ہوں گے

3

Download Image

حقیقت ناسمجھ مجھے پتھر سمجھ کے چھوڑ گیا تو
حقیقت چاہتا تو ستارے تم تراشتا مجھ سے

25

Download Image

تراش مجسمہ سازی یا نفاست کی فن کا اشارہ دیتا ہے، جو خام مواد سے شکل اور خوبصورتی نکالنے کا عمل ہے۔ شاعری میں، یہ جذبات، خیالات، اور تجربات کو کچھ خوبصورت اور معنی خیز میں ڈھالنے کی علامت ہے۔

شاعر 'تراش' کا استعمال خام جذبات کو فن میں نفاست دینے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر ذاتی ترقی، فنکارانہ تخلیق، اور معمولی کو غیر معمولی میں تبدیل کرنے کے سیاق و سباق میں ظاہر ہوتا ہے۔

تراش فن کی تبدیلی کی طاقت کو مجسم کرتا ہے، جو خام کو نفیس میں بدل دیتا ہے۔