Meaning of

تسلیم

tasleem. • तसलीम

قبولیت; تسلیم

acceptance; submission

स्वीकार; समर्पण

Arabic

دنیا نے تسلیم کیا جب فن اپنا
گھر پہ جمگھٹ رہتا ہے مہمانوں کا

0

Download Image

دانش یوں تسلیم نہیں کرتی دنیا
اپنے آپ کو ثابت کرنا پڑتا ہے

33

Download Image

دل نے پہلے پہل تو ا
سے کی کمی تسلیم کی
پھروں کہی آنکھوں نے اپنی قیامت تسلیم کی

تجھ سے ملتے ہی مجھے پہلی محبت ہوں گئی
اور ہے وہ ہے وہ نے حقیقت محبت آخری تسلیم کی

7

Download Image

بڑا ہوکر جو چھوٹے لوگوں کی تعظیم کرتا ہے
زمانہ ایسے ہی انسان کو تسلیم کرتا ہے

چلو چھوڑو سیاست کے پرانی طعنہ بانہ کو
یہی حقیقت فلسفہ ہے جو ہمیں تقسیم کرتا ہے

5

Download Image

محبت حرف اول ہے اسی کا میم لکھتے ہیں
محبت آپ ہیں مری چلو تسلیم لکھتے ہیں

لکھیں گے اک غزل ہم بھی تمہارا ذکر ہوں ج
سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
تمہارا ذکر ہوں ج
سے ہے وہ ہے وہ وہی ہم شہر خاموشاں لکھتے ہیں

5

Download Image

ا
سے اصول عشق ہے وہ ہے وہ تسلیم خود کو کر دیا جب
تب دکھایا جادو ا
سے نے ہم غلامی کر رہے ہیں

3

Download Image

میدان محبت ہے وہ ہے وہ جاناں ہار چکے ہوں دل
تسلیم تمہیں کرنا اب ہار ضروری ہے

2

Download Image

خود ہے وہ ہے وہ تسلیم ہیں وفا کر کے
قید شیطانوں گناہ کٹتا ہے

1

Download Image

خود کو تسلیم کر لیا شاعر
ب
سے مجھے شاعری نہیں آتی

0

Download Image

ا
سے کے جھوٹے عشق کو کر لیتا ہے وہ ہے وہ تسلیم لیکن
ا
سے کا لہجہ اور ارادہ بے وفائی سے بھرا تھا

0

Download Image

دنیا نے تسلیم کیا جب فن اپنا
گھر پہ جمگھٹ رہتا ہے مہمانوں کا

0

Download Image

دانش یوں تسلیم نہیں کرتی دنیا
اپنے آپ کو ثابت کرنا پڑتا ہے

33

Download Image

تسلیم قبولیت کا عمل ہے، حالات یا جذبات کے سامنے نرم جھکاؤ۔ شاعری میں یہ سرنڈر میں ملنے والی فضل کو ظاہر کرتا ہے، وہ سکون جو اپنی قسمت کو قبول کرنے سے آتا ہے۔

شاعر 'تسلیم' کا استعمال سرنڈر کی خوبصورتی کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ چھوڑ دینے میں ملنے والی خاموش طاقت ہے، اس سکون میں جو قابو سے باہر کو قبول کرنے میں ہے۔

تسلیم دل کی خاموش فضل ہے، زندگی کے انکشاف کو نرم قبولیت۔