Meaning of

وصل

vasl • वस्ल

ملاپ; ملاقات; ساتھ

union; meeting; togetherness

मिलन; संगम; साथ

Arabic

بھنور سے کیسے بچ پایا کسی پتوار سے پوچھو
ہمارا حوصلہ پوچھو تو پھروں منجھدار سے پوچھو

51

Download Image

منزلیں کیا ہیں راستہ کیا ہے
حوصلہ ہوں تو فاصلہ کیا ہے

153

Download Image

تو محبت سے کوئی چال تو چل
ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے

136

Download Image

یہ ک
سے نے باغ سے ا
سے بے وجہ کو بلا لیا ہے
پرند اڑ گئے پیڑوں نے منا بنا لیا ہے

اسے پتا تھا ہے وہ ہے وہ چھونے ہے وہ ہے وہ سمے لیتا ہوں
سو ا
سے نے وصل کا دورانیا بڑھا لیا ہے

110

Download Image

اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

107

Download Image

خوبصورت تھیں خواہشیں ور
لگ
وصل سے انتظار اچھا تھا

74

Download Image

ناپ رہا تھا ایک اداسی کی گہرائی
ہاتھ پکڑ کر واپ
سے لائی ہے تنہائی

وصل دنوں کو کافی چھوٹا کر دیتا ہے
ہجر بڑھا دیتا ہے راتوں کی لمبائی

60

Download Image

تمہارا بھی وصل محبت کوئی دل
تمہیں بھی شاعری اچھی لگےگی

60

Download Image

ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے
کبھی تو حوصلہ کر کے نہیں کہا جائے

55

Download Image

ہے وہ ہے وہ تجھے کھو کے بھی زندہ ہوں یہ دیکھا تو نے
ک
سے دودمان حوصلہ ہارے ہوئے انسان ہے وہ ہے وہ ہے

54

Download Image

بھنور سے کیسے بچ پایا کسی پتوار سے پوچھو
ہمارا حوصلہ پوچھو تو پھروں منجھدار سے پوچھو

51

Download Image

منزلیں کیا ہیں راستہ کیا ہے
حوصلہ ہوں تو فاصلہ کیا ہے

153

Download Image

وصل گہرے خوشی اور تکمیل کو ظاہر کرتا ہے جو ملاپ میں پایا جاتا ہے، اکثر محبوب کے ساتھ۔ شاعری میں، یہ اس تڑپ کو ظاہر کرتا ہے جو ملاپ سے پوری ہوتی ہے، دل کی آرزو جو ساتھ کی گرمی سے ملتی ہے۔

شاعر اکثر وصل کو جدائی کے برعکس استعمال کرتے ہیں، ملاپ کی مٹھاس کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ خوشی کا لمحہ ہے، تڑپ کی انتہا۔ یہ لفظ روحانی یا الہی ملاپ کا بھی اشارہ دیتا ہے۔

وصل اتحاد کا جشن ہے، ساتھ کا شاعرانہ آغوش۔ یہ ہمیں تعلق میں پائی جانے والی خوبصورتی کی یاد دلاتا ہے۔