Meaning of

یادیں

yaade • यादे

یادیں; یادداشتیں

memories; recollections

स्मृतियाँ; यादें

Persian

تمہاری یادیں ہیں سو کیسے ان کو بھول جائیں ہم
بھلا کوئی ہوا کے بن زیا ہے اور جی سکتا ہے

12

Download Image

تری جانے کے بعد ب
سے یادیں
ہر طرف یاد یاد ب
سے یادیں

سونا چان
گرا زمین گھر سب کچھ
ہیں مری جائیداد ب
سے یادیں

81

Download Image

تیری یادیں لپٹ جاتی ہیں مجھ سے گھر پہنچتے ہی
کہ چنو باپ سے آ کر کوئی بچی لپٹتی ہے

43

Download Image

ستاتی ہیں رلاتی ہیں مجھے یادیں دسمبر کی
جگاتی ہیں جلاتی ہیں مجھے راتیں دسمبر کی

23

Download Image

سب شاہ بھی گھوڑے بھی پیادے بھی ہے ا
سے کے
اور ا
سے پہ حقیقت چالیں بھی غضب سوچ رہا ہے

19

Download Image

تیری یادیں جب جب بھی تڑپاتی ہیں
تب تب ہم مےخانہ 9 جاتے ہیں

اتنا تکبر ہے تیرے لہجے ہے وہ ہے وہ جان
تجھ کو دیکھ کے ہم سچ ہے وہ ہے وہ ڈر جاتے ہیں

15

Download Image

رات کو نیند آتی نہیں اب مجھے
تیری یادیں جو ظالم ہیں ہے وہ ہے وہ کیا کروں

ا
سے
لیے ساتھ چھوڑا ہے تو نے میرا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری یاد ہے وہ ہے وہ صرف آہیں بھروں

15

Download Image

خموشی بےچینی یادیں تیری میرا خالی پن
کتنا کچھ ہے کمرے ہے وہ ہے وہ تری اور مری سوا

14

Download Image

جب تصویریں کھو جاتی ہیں
باتیں یادیں ہوں جاتی ہیں

ہم نہیں سوتے یار کبھی بھی
ہم ہے وہ ہے وہ راتیں سو جاتی ہیں

13

Download Image

ا
سے کی یادیں شور مچاتی ہے دانش
ا
سے دل کا کوئی کونا سنسان نہیں

آنسو پی کر لکھتے ہیں ہم اپنی غزل
شاعر ہونا اتنا بھی آسان نہیں

13

Download Image

تمہاری یادیں ہیں سو کیسے ان کو بھول جائیں ہم
بھلا کوئی ہوا کے بن زیا ہے اور جی سکتا ہے

12

Download Image

تری جانے کے بعد ب
سے یادیں
ہر طرف یاد یاد ب
سے یادیں

سونا چان
گرا زمین گھر سب کچھ
ہیں مری جائیداد ب
سے یادیں

81

Download Image

یادیں لفظ میں ایک قسم کی پرانی یادوں کی مٹھاس اور تڑپ شامل ہے۔ شاعری میں، یہ لفظ اکثر ان جذبات کا بوجھ اٹھاتا ہے جو ماضی کے تجربات سے جڑے ہوتے ہیں، چاہے وہ خوشگوار ہوں یا تکلیف دہ۔ یادیں صرف یادداشتیں نہیں ہوتیں، بلکہ حال کو شکل دینے والی زندہ ہستیاں ہوتی ہیں۔

شاعر اکثر 'یادیں' کا استعمال پرانی یادوں اور وقت کے گزرنے کے موضوعات کو تلاش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ کھوئے ہوئے لمحات یا لوگوں کے لیے تڑپ کی کیفیت پیدا کر سکتا ہے۔ یہ لفظ 'بھول' (بھولنے) کے برعکس ہے، جو یادداشت کی مستقل مزاجی کو ظاہر کرتا ہے۔

شاعری میں، 'یادیں' ماضی اور حال کے درمیان ایک پل کے طور پر کام کرتی ہیں، یادداشت کی مستقل طاقت کا ثبوت۔