Meaning of

یخ

yakh • यख़

برف; سردی

ice; coldness

बर्फ; ठंडक

Persian

اسی دنیا ہے وہ ہے وہ دکھا دیں تمہیں جنت کی بہار
شیخ جی جاناں بھی ذرا کوئے بتاں تک آؤ

24

Download Image

زلیخا عزیزاں بات یہ ہے
بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کریں ہم

80

Download Image

مے خانے کی دودمان ہے مری دی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ا
سے نے جانے کتنی چھوئے گا ٹالی ہیں

63

Download Image

ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

59

Download Image

ہے وہ ہے وہ چیختا رہا کچھ اور بھی ہے میرا علاج
م
گر یہ لوگ تمہارا ہی نام لیتے رہے

50

Download Image

دانشمندوں رستہ بتلا سکتے ہوں
دیوا
لگ ہوں ویرانے تک جانا ہے

جنت والے تھوڑا پہلے اتریںگے
رندوں کو تو مے خانے تک جانا ہے

48

Download Image

ذکر تبسم کا آتے ہی لگتے ہیں اترانے لوگ
اور ذرا سی ساز آرزو لگی تو جا پہنچے مے خانے لوگ

37

Download Image

تر دامنی پہ شیخ ہماری لگ جائ
یوں
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

29

Download Image

ہم شیخ لگ لیڈر لگ مصاحب لگ صحافی
جو خود نہیں کرتے حقیقت ہدایت لگ کریںگے

26

Download Image

شب کی ہوا سے ہار گئی مری دل کی آگ
یخ بستہ شہر ہے وہ ہے وہ کوئی رد و بدل لگ تھا

24

Download Image

اسی دنیا ہے وہ ہے وہ دکھا دیں تمہیں جنت کی بہار
شیخ جی جاناں بھی ذرا کوئے بتاں تک آؤ

24

Download Image

زلیخا عزیزاں بات یہ ہے
بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کریں ہم

80

Download Image

لفظ 'یخ' برف کی سخت، اٹل فطرت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ جسمانی سردی اور جذباتی فاصلے دونوں کی علامت ہے جو سردی لا سکتی ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر تنہائی یا وقت کے گزرنے کی عکاسی کرتا ہے۔

شعراء 'یخ' کا استعمال تنہائی کے جذبات، سردی کی سختی، یا وقت کے سست، ناگزیر گزرنے کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ گرمی اور زندگی کے برعکس ہے۔

اپنی برفیلی آغوش میں، 'یخ' سکون اور غور و فکر کی خاموش طاقت کو تھامے ہوئے ہے۔