Meaning of

یزید

yazid • यज़ीद

ایک تاریخی شخصیت کا نام; ظلم کی علامت

name of a historical figure; symbol of tyranny

ऐतिहासिक व्यक्ति का नाम; अत्याचार का प्रतीक

Arabic

علی کے شعر نے کر کے ریزے
تلاوت ہوشیاروں کو دکھایا یزیدیوں زندہ ہے

1

Download Image

سر اٹھا سکتا نہیں کوئی مانگتا حشر تک
کر دیا کچھ اتنا خم باطل کا سر عبا
سے نے

6

Download Image

سب جگہ سے اے دشمن کہتا یہ پرندہ ہے
سن یزید اب بھی میرا حسین زندہ ہے

5

Download Image

ہے علم دنیا کو زہرا کے چین جیت گئے
علی کے نسل کے سب نور عین جیت گئے

مری نبی کے نواسے نے ایسا سجدہ کیا
یزید ہار گیا تو اور حسین جیت گئے

5

Download Image

اب ی
ہاں پر یزید نام نہیں
نام رکھنے لگے حسین سبھی

2

Download Image

ج
ہاں ہے وہ ہے وہ آج بھی یہ شور و شین باقی ہے
یزید مٹ گیا تو لیکن حسین باقی ہے

2

Download Image

اے خالد آپ کے سر پر کنیزو دیکھ کر
مبتلا ہے خوف ہے وہ ہے وہ یہ دور حاضر کا یزید

آپ کا زیور ہے پردہ خود کو پردے ہے وہ ہے وہ رکھو
دست بستہ التجا کرتے ہیں یہ جاناں سے ردائیں

1

Download Image

گمنام ہوں گئے ہیں یزید اور ا
سے کے لوگ
دنیا ہے وہ ہے وہ جلوہ ہے مری پیاسے حسین کا

1

Download Image

علی کے شعر نے کر کے ریزے
تلاوت ہوشیاروں کو دکھایا یزیدیوں زندہ ہے

1

Download Image

سر اٹھا سکتا نہیں کوئی مانگتا حشر تک
کر دیا کچھ اتنا خم باطل کا سر عبا
سے نے

6

Download Image

یزید ایک ایسا نام ہے جو تاریخی بدنامی کا بوجھ لیے ہوئے ہے۔ شاعری میں یہ ظلم، جبر اور انصاف کے ساتھ خیانت کی علامت ہے۔ یہ لفظ اخلاقی کشمکش اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کے احساس کو بیدار کرتا ہے۔

شاعر یزید کو خیانت اور اخلاقی بدعنوانی کے موضوعات کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ اکثر انصاف اور حق کے نظریات کے برعکس ہوتا ہے۔ یہ لفظ نیکی اور بدی کے درمیان ابدی جنگ کی یاد دلاتا ہے۔

یزید اخلاقی زوال اور انصاف کے لیے جدوجہد کی ایک طاقتور علامت ہے۔ شاعری میں اس کی موجودگی ظلم کو یاد کرنے اور اس کی مزاحمت کرنے کی دعوت ہے۔