Meaning of

زام

zaam • ज़ाम

شراب; پیالہ

wine; goblet

शराब; प्याला

Persian

ملاحوں کو الزام لگ دو جاناں ساحل والے کیا جانو
یہ طوفاں کون اٹھاتا ہے یہ کشتی کون ڈبوتا ہے

25

Download Image

گلاب خواب دوا زہر جام کیا کیا ہے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ گیا تو ہوں بتا انتظام کیا کیا ہے

267

Download Image

جھجھکتا ہوں اسے الزام دیتے
کوئی امید اب بھی روکتی ہے

58

Download Image

ایک ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
دنیا والے دل والوں کو اور بے حد کچھ کہتے ہیں

50

Download Image

خدا نے چاہا تو سب انتظام کر دیں گے
غزل پہ آئی تو مطلعے ہے وہ ہے وہ کام کر دیں گے

35

Download Image

دل پہ آئی ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں
لوگ اب مجھ کو تری نام سے پہچانتے ہیں

32

Download Image

ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئی
آئی تو صحیح بر سر الزام ہی آئی

32

Download Image

ویسے تو تمہیں نے مجھے برباد کیا ہے
الزام کسی اور کے سر جائے تو اچھا

31

Download Image

پہلے خود کو ایک اچھی جاب کے قابل کروں
گھر خریدو کار لوں پھروں پیش تجھ کو دل کروں

تو کوئی ایگزام ہے کیا پا
سے کرنا ہے تجھے
تو کوئی ڈگری ہے کیا پڑھکر تجھے حاصل کروں

30

Download Image

ب
سے ایک لمحے کے سچ جھوٹ کے عوض فرحت
تمام عمر کا الزام لے گیا تو مجھ سے

25

Download Image

ملاحوں کو الزام لگ دو جاناں ساحل والے کیا جانو
یہ طوفاں کون اٹھاتا ہے یہ کشتی کون ڈبوتا ہے

25

Download Image

گلاب خواب دوا زہر جام کیا کیا ہے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ گیا تو ہوں بتا انتظام کیا کیا ہے

267

Download Image

'زام' صرف ایک برتن نہیں ہے؛ یہ جشن اور نشے کا جوہر ہے۔ شاعری میں، یہ زندگی کے امرت کی علامت ہے، خوشی اور فراموشی کا ذریعہ۔ یہ لفظ ان محفلوں کی تصاویر پیش کرتا ہے جہاں ہنسی اتنی ہی آزادی سے بہتی ہے جتنی شراب۔

شاعر اکثر 'زام' کا استعمال عیش و عشرت اور فرار کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ خوشی کی عارضی نوعیت کا استعارہ ہے، زندگی کی لذتوں کے کھٹے میٹھے ذائقے کی یاد دلاتا ہے۔ کبھی کبھی، یہ پرہیزگاری کے برعکس ہوتا ہے، ضبط اور رہائی کے درمیان تناؤ کو اجاگر کرتا ہے۔

'زام' خوابوں کا برتن ہے، زندگی کی عارضی خوشیوں کا جوہر رکھتا ہے۔