Meaning of

ذات و صفت

zaat-o-sifat • ज़ात-ओ-सिफ़त

جوہر اور صفات; فطرت اور خصوصیات

essence and attributes; nature and qualities

मूल और गुण; प्रकृति और विशेषताएँ

Arabic

ذات و صفت کا فقرہ کسی وجود یا ہستی کے جوہر اور خصوصیات میں گہرائی سے اترتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر وجود کی دوگانگی کو تلاش کرتا ہے، جہاں جوہر غیر متغیر ہوتا ہے، لیکن صفات ہمیشہ بدلتی رہتی ہیں۔

شاعر 'ذات و صفت' کا استعمال ابدی اور عارضی کے درمیان تضاد کے لیے کرتے ہیں۔ اسے اکثر انسانی حالت، الہی یا محبت کی فطرت پر غور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

شاعری میں، 'ذات و صفت' وجود کی پیچیدگیوں کو منعکس کرنے والا آئینہ بن جاتا ہے۔ یہ خود اور کائنات کے غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔