Meaning of
زخم در زخم
zakham-dar-zakham • ज़ख़्म-दर-ज़ख़्म
Urdu
زخم پر زخم; بار بار کی تکلیف
English
wound upon wound; repeated suffering
Hindi
घाव पर घाव; बार-बार की पीड़ा
Origin
Persian
Ash'aar
Nuance
یہ فقرہ مسلسل درد کا احساس دلاتا ہے، جہاں ہر زخم پچھلے پر تہہ در تہہ ہوتا ہے، تکلیف کو گہرا کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ مشکلات برداشت کرنے کے جوہر کو پکڑتا ہے، جہاں تکلیف واحد نہیں ہوتی بلکہ مرکب ہوتی ہے، غم کی ایک بُنت بناتی ہے۔
Poetic Usage
شاعر اس فقرے کا استعمال جذباتی یا جسمانی تکلیف کی گہرائی کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر دل شکستگی، نقصان، یا وقت کے مسلسل گزرنے کو بیان کرنے والے اشعار میں ظاہر ہوتا ہے۔ زخموں کے بڑھنے کی تصویر گہری حساسیت اور برداشت کا احساس دلاتی ہے۔
Closing Insight
شاعری کی دنیا میں، 'زخم در زخم' مسلسل آزمائشوں کے درمیان انسانی روح کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔
