Meaning of

ذکر

zikr • ज़िक्र

ذکر; یاد; تذکرہ

mention; remembrance; invocation

उल्लेख; स्मरण; जप

Arabic

وفا نظر نہیں آتی کہی زمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
وفا کا ذکر کتابوں ہے وہ ہے وہ دیکھ لیتے ہیں

40

Download Image

جاناں ان کے نازکی کا ذکر ان سے کیوں کروں تاکتے
یہ کیا کہ جاناں کہو اور حقیقت کہی کہ یاد نہیں

124

Download Image

یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا
سے کی خوشگوار بان
ہوں کا
حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے

114

Download Image

ذکر ہر سو بکھر گیا تو ا
سے کا
کوئی دیوا
لگ مر گیا تو ا
سے کا

ا
سے نے جی بھر کے مجھ کو چاہا تھا
اور پھروں جی ہی بھر گیا تو ا
سے کا

100

Download Image

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے
جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا
سے کو بھاتے ہوں گے

یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا
سے کی خوشگوار بان
ہوں کا
حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے

95

Download Image

دل کے دروازے بھیڑ کر دیکھو
زخم سارے اُدھیڑ کر دیکھو

بند کمرے ہے وہ ہے وہ آئینے سے کبھی
جاناں میرا ذکر چھیڑ کر دیکھو

85

Download Image

تو تو پھروں اپنی جان ہے تیرا تو ذکر کیا
ہم تری دوستوں کے بھی نخرے اٹھائیںگے

78

Download Image

ٹوٹ بھی جاؤں تو تیرا کیا ہے
ریت سے پوچھ آئی
لگ کیا ہے

پھروں مری سامنے اسی کا ذکر
آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے

74

Download Image

ذکر تمہارا بے حد ضروری ان غزلوں ہے وہ ہے وہ اندھیرا
چائے بنا ادرک کو ڈالے اچھی تھوڑی بنتی ہے

59

Download Image

اب تری ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں
کتنی رغبت تھی تری نام سے پہلے پہلے

41

Download Image

وفا نظر نہیں آتی کہی زمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
وفا کا ذکر کتابوں ہے وہ ہے وہ دیکھ لیتے ہیں

40

Download Image

جاناں ان کے نازکی کا ذکر ان سے کیوں کروں تاکتے
یہ کیا کہ جاناں کہو اور حقیقت کہی کہ یاد نہیں

124

Download Image

ذکر کا اصل مطلب یاد یا ذکر کرنا ہے، خاص طور پر روحانی یا مذہبی سیاق و سباق میں۔ شاعری میں، یہ یادوں اور جذبات کی گہرائی میں جا کر ایک قسم کی تڑپ یا عقیدت کو بیدار کرتا ہے۔

شاعر اکثر 'ذکر' کا استعمال یادوں یا روحانی تعلق کو جگانے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ کسی محبوب یا الہی ہستی کو یاد کرنے کے عمل کی نمائندگی کر سکتا ہے۔ یہ لفظ عقیدت اور تڑپ کا بوجھ اٹھاتا ہے۔

شاعری میں، 'ذکر' عارضی اور ابدی کے درمیان ایک پل بن جاتا ہے، دل کی گہری خواہشات کی سرگوشی۔