Meaning of

آب

aab-e • आब-ए

پانی; جوہر

water; essence

पानी; सार

Persian

ہے وہ ہے وہ نے آباد کیے کتنے ہی ویرانے عرو
سے بہار
زندگی مری اک اجڑی ہوئی محفل ہی صحیح

32

Download Image

اور پھروں ایک دن بیٹھے بیٹھے مجھے
اپنی دنیا بری لگ گئی

ج
سے کو آباد کرتے ہوئے
مری ماں باپ کی زندگی لگ گئی

207

Download Image

یار بچھڑ کر جاناں نے ہنستا آپ ہے وہ ہے وہ گھر ویران کیا
مجھ کو بھی آباد لگ رکھا اپنا بھی نقصان کیا

122

Download Image

الجھ کر کے تیری زلفوں ہے وہ ہے وہ یوں آباد ہوں جاؤں
کہ چنو چھوڑنا کا ہے وہ ہے وہ امین آباد ہوں جاؤں

ہے وہ ہے وہ ہے وہ یمنا کی طرح تنہا نہاروں تاج کو کب تک
کوئی گنگا ملے تو ہے وہ ہے وہ الہ آباد ہوں جاؤں

101

Download Image

ہے وہ ہے وہ انہی آبادیوں ہے وہ ہے وہ جی رہا ہوتا کہی
جاناں ا
گر ہنستے نہیں ا
سے دن مری تقدیر پر

79

Download Image

کتاب عشق ہے وہ ہے وہ ہر آہ ایک آیت ہے
پر آنسوؤں کو حروف مقطعات سمجھ

43

Download Image

اپنی تنہائی مری نام پہ آباد کرے
کون ہوگا جو مجھے ا
سے کی طرح یاد کرے

41

Download Image

انی
سے آساں نہیں آباد کرنا گھر محبت کا
یہ ان کا کام ہے جو زندگی برباد کرتے ہیں

40

Download Image

اب ا
سے گھر کی آبا
گرا مہمانوں پر ہے
کوئی آ جائے تو سمے گزر جاتا ہے

35

Download Image

اللہ تری ہاتھ ہے اب آبرو شوق
دم گھٹ رہا ہے سمے کی رفتار دیکھ کر

32

Download Image

ہے وہ ہے وہ نے آباد کیے کتنے ہی ویرانے عرو
سے بہار
زندگی مری اک اجڑی ہوئی محفل ہی صحیح

32

Download Image

اور پھروں ایک دن بیٹھے بیٹھے مجھے
اپنی دنیا بری لگ گئی

ج
سے کو آباد کرتے ہوئے
مری ماں باپ کی زندگی لگ گئی

207

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'آب' پانی کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو زندگی بخش عنصر ہے جو پرورش اور حیات بخشتا ہے۔ شاعری میں، یہ کسی چیز کی جوہر یا اندرونی خصوصیت کو ظاہر کرنے کے لیے پھیلتا ہے، اکثر پاکیزگی، وضاحت اور گہرائی کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

شاعر اکثر 'آب' کا استعمال محبوب کی آنکھوں کی پاکیزگی یا خیال کی وضاحت کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اس کا استعمال دھوکہ دہی کی دھندلاہٹ یا بنجر دل کی خشکی کے برعکس بھی کیا جا سکتا ہے۔

شاعری میں، 'آب' روح کی پاکیزگی اور دل کی گہری خواہشات کو منعکس کرنے والا آئینہ بن جاتا ہے۔