Meaning of

آغوش

aaghosh • आग़ोश

آغوش; گود; پناہ

embrace; bosom; shelter

आलिंगन; गोद; आश्रय

Persian

مجھ کو یہ نظر آیا کے حقیقت ایک بلا ہے
کچھ خواب ہے کچھ اصل ہے کچھ طرز اے ادا ہے

حقیقت غیر کی آغوش ہے وہ ہے وہ رہنے لگا شاداں
اس کا کا کو نہیں معلوم کے دل میرا جلا ہے

4

Download Image

حقیقت عقل مند کبھی خون تمنا ہے وہ ہے وہ نہیں آتا
گلے تو لگتا ہے آغوش ہے وہ ہے وہ نہیں آتا

61

Download Image

یہ کیسے سانحے اب پیش آنے لگ گئے ہیں
تری آغوش ہے وہ ہے وہ ہم چھٹپٹانے لگ گئے ہیں

بے حد ممکن ہے کوئی تیر ہم کو آ لگے گا
ہم ایسے لوگ جو پنچھی اڑانے لگ گئے ہیں

32

Download Image

ماں کی آغوش ہے وہ ہے وہ کل موت کی آغوش ہے وہ ہے وہ آج
ہم کو دنیا ہے وہ ہے وہ یہ دو سمے سہانے سے ملے

28

Download Image

شب کی آغوش ہے وہ ہے وہ مہتاب اتارا ا
سے نے
مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ کوئی خواب اتارا ا
سے نے

26

Download Image

بڑھ کے طوفان کو آغوش ہے وہ ہے وہ لے لے اپنی
ڈوبنے والے تری ہاتھ سے ساحل تو گیا تو

23

Download Image

گل دان ہے وہ ہے وہ گلاب کی مصروف مہک اٹھیں
کرسی نے ا
سے کو دیکھ کے آغوش وا کیا

20

Download Image

کسانوں ایسی کہ اک دن پیٹ بھرنے کے لیے
آنکھ فوڑی جائے گی آنسو نکالے جائیں گے

قبر کے آغوش ہے وہ ہے وہ یہ دل میرا جب آئےگا
دل کی تہ کو خود کر جگنو نکالے جائیں گے

8

Download Image

ہم ہیں حقیقت لوگ کہ آغوش لگ کانده کوئی
گولیاں نیند کی کھاتے ہیں سکون پانے کو

6

Download Image

یا تو خوبصورت خراب ہے جانی
یا محبت خراب ہے جانی

آج آغوش ہے وہ ہے وہ گرے ا
سے کے
پھروں طبیعت خراب ہے جانی

5

Download Image

مجھ کو یہ نظر آیا کے حقیقت ایک بلا ہے
کچھ خواب ہے کچھ اصل ہے کچھ طرز اے ادا ہے

حقیقت غیر کی آغوش ہے وہ ہے وہ رہنے لگا شاداں
اس کا کا کو نہیں معلوم کے دل میرا جلا ہے

4

Download Image

حقیقت عقل مند کبھی خون تمنا ہے وہ ہے وہ نہیں آتا
گلے تو لگتا ہے آغوش ہے وہ ہے وہ نہیں آتا

61

Download Image

آغوش گرمجوشی، حفاظت اور قربت کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ محبوب کے آرام دہ آغوش یا فطرت کی پرورش کرنے والی پناہ کا علامت ہے، جو اپنائیت اور سکون کا احساس بیدار کرتا ہے۔

شاعر اکثر 'آغوش' کا استعمال محبت اور تسلی کے مناظر کو پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ وہ نرم پناہ ہے جہاں دلوں کو آرام ملتا ہے اور روحیں تازہ دم ہوتی ہیں۔

آغوش کی نرم تہوں میں، شاعری کو اپنا پناہ ملتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دل کی سرگوشیاں سب سے واضح طور پر سنی جاتی ہیں۔