Meaning of

آستین

aasteen • आस्तीन

کمیض کی آستین; چھپے ہوئے ارادے

sleeve; metaphor for hidden intentions

कमीज़ की बाँह; छुपे हुए इरादे

Persian

ہجر کی حقیقت رات تھی اور رات بھر سویا نہیں
ج
سے پہ مرتا تھا مری مرنے پہ حقیقت رویا نہیں

آستین سے پوچھتا آنسو رہا ہر بار ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اکلوتی نہیں تھی حقیقت جسے کھویا نہیں

2

Download Image

رومال لے لیا ہے کسی ماہ جبین سے
کب تک پسی
لگ پونچھتے ہم آستین سے

یہ آنسوؤں کے داغ ہیں آنسو ہی دھوئیں گے
یہ داغ دھل لگ پائیں گے واشنگ قید ہستی سے

47

Download Image

خدا جانے حقیقت ایسے کیسے کیوں یہ مرد پالے ہیں
سیاسی لوگ اپنے دل ہے وہ ہے وہ دہشت گرد پالے ہیں

کیا کرتے ہیں جو ظلم و ستم ہر بےبسیوں پر یوں
حقیقت اپنے آستینوں ہے وہ ہے وہ فقط بے درد پالے ہیں

15

Download Image

قاتل نے ک
سے صفائی سے دھوئی ہے آستین
ا
سے کو خبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے

10

Download Image

تیری یادوں ہے وہ ہے وہ نکلے خوشی بھی ضائع نہیں جاتے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنسو پونچ کر کے آستین کو چوم لیتا ہوں

7

Download Image

اب آستین کے سانپوں سے دور رہنا ہے
اسے کہو لگ کرے فون بار بار مجھے

6

Download Image

وہی سب لوگ اشرف آستین کے سانپ نکلے ہیں
جنہیں شامل سمجھتے تھے جاناں اپنے خیرخواہوں ہے وہ ہے وہ

3

Download Image

ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں سانپ ہے پر آستین ہے وہ ہے وہ رہ
ہم سے نیا لگ کوئی بھی اب پالا جائےگا

2

Download Image

کچھ لوگوں کی سوچ ہے وہ ہے وہ بھی خانہ خراب ہوتے ہیں
ان لوگوں کے تو دل بھی کالے ہوتے ہیں

9 مجھ کو سانپ وہی ڈستے ہیں آ کر
جو ہے وہ ہے وہ نے آستین ہے وہ ہے وہ پالے ہوتے ہیں

2

Download Image

حقیقت سانپ کو برا کہتے ہیں
خود آستین ہے وہ ہے وہ رہتے ہیں

2

Download Image

ہجر کی حقیقت رات تھی اور رات بھر سویا نہیں
ج
سے پہ مرتا تھا مری مرنے پہ حقیقت رویا نہیں

آستین سے پوچھتا آنسو رہا ہر بار ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اکلوتی نہیں تھی حقیقت جسے کھویا نہیں

2

Download Image

رومال لے لیا ہے کسی ماہ جبین سے
کب تک پسی
لگ پونچھتے ہم آستین سے

یہ آنسوؤں کے داغ ہیں آنسو ہی دھوئیں گے
یہ داغ دھل لگ پائیں گے واشنگ قید ہستی سے

47

Download Image

آستین کا اصل مطلب لباس کی آستین ہے، جو کپڑے کا ایک سادہ حصہ ہے۔ مگر شاعری میں یہ اکثر چھپے ہوئے ارادوں یا جذبات کی علامت بن جاتا ہے، کیونکہ آستین وہ چھپا سکتی ہے جو ہاتھ میں ہے۔ یہ دوہرا پن شاعری میں اس کے استعمال کو گہرا کرتا ہے، جہاں ظاہر اور پوشیدہ کا توازن ہوتا ہے۔

شاعر اکثر 'آستین' کا استعمال دھوکہ دہی اور چھپے ہوئے سچائیوں کے موضوعات کو تلاش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسے شخص کی تصویر پیش کر سکتا ہے جو قابل اعتماد نظر آتا ہے لیکن راز چھپائے ہوئے ہے۔ یہ لفظ کھلے پن اور شفافیت کے برعکس ہے، جس سے یہ خیانت یا راز کو ظاہر کرنے کے لیے ایک طاقتور آلہ بن جاتا ہے۔

شاعری میں 'آستین' غیر مرئی کی تلاش کے لیے ایک کینوس بن جاتا ہے۔ یہ قاری کو سطح کے نیچے چھپے ہوئے پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔