Meaning of

عبث

abas • अबस

عبث; بے فائدہ; بے مقصد

futile; pointless; in vain

व्यर्थ; निरर्थक; बेकार

Arabic

لگ ان لبوں پہ تبسم لگ پھول شاخوں پر
گزر گئے ہیں جو موسم گزرنے والے تھے

22

Download Image

ہونٹ تبسم سے گیلے ہیں جاناں
زبان جاناں نے کچھ میٹھا سوچا ہے

57

Download Image

تمہارے پا
سے آتے ہیں تو سانسیں بھیگ جاتی ہیں
محبت اتنی ملتی ہے کہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

تبسم عطر جیسا ہے ہنسی برسات جیسی ہے
حقیقت جب بھی بات کرتی ہے تو باتیں بھیگ جاتی ہیں

52

Download Image

دل بھی پاگل ہے کہ ا
سے بے وجہ سے وابستہ ہے
جو کسی اور کا ہونے دے لگ اپنا رکھے

43

Download Image

ذکر تبسم کا آتے ہی لگتے ہیں اترانے لوگ
اور ذرا سی ساز آرزو لگی تو جا پہنچے مے خانے لوگ

37

Download Image

دلوں کو تری تبسم کی یاد یوں آئی
کہ جگمگا بے خبرو ج
سے طرح مندروں ہے وہ ہے وہ چراغ

31

Download Image

ہے وہ ہے وہ جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں
حقیقت تبسم حقیقت تکلم تری عادت ہی لگ ہوں

30

Download Image

کب بار تبسم مری ہونٹوں سے اٹھےگا
یہ بوجھ بھی لگتا ہے اٹھائےگا کوئی اور

29

Download Image

اتنا سچ بول کہ ہونٹوں کا تبسم لگ بجھے
روشنی ختم لگ کر آگے اندھیرا ہوگا

27

Download Image

ایسے اقرار ہے وہ ہے وہ انکار کے سو پہلو ہیں
حقیقت تو کہیے کہ لبوں پہ لگ تبسم آئی

23

Download Image

لگ ان لبوں پہ تبسم لگ پھول شاخوں پر
گزر گئے ہیں جو موسم گزرنے والے تھے

22

Download Image

ہونٹ تبسم سے گیلے ہیں جاناں
زبان جاناں نے کچھ میٹھا سوچا ہے

57

Download Image

عبث بے مقصدیت کے احساس کو ظاہر کرتا ہے، جہاں کوششیں بے سود لگتی ہیں اور نتائج ناقابل حصول رہتے ہیں۔ شاعری میں یہ اکثر وجودی جدوجہد اور ایک بے حس دنیا میں معنی کی تلاش کو ظاہر کرتا ہے۔

شاعر اس کا استعمال نامکمل خواہشات کی اداسی یا انسانی کوششوں کی ستم ظریفی کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ خوابوں اور حقیقت کے درمیان تضاد کو اجاگر کر سکتا ہے۔

عبث زندگی کے بے جواب سوالات کے سامنے خاموشی سے تسلیم کرنے کو پکڑتا ہے۔