Meaning of

الم

alam • अलम

درد; غم

pain; sorrow

दर्द; दुःख

Arabic

سر زمین ہند پر اقوام عالم کے فراق
بندھو بستے گئے ہندوستان بنتا گیا تو

48

Download Image

تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے

403

Download Image

اب ا
سے جانب سے ا
سے کثرت سے تحفے آ رہے ہیں
کہ گھر ہے وہ ہے وہ ہم نئی الماریاں بنوا رہے ہیں

138

Download Image

بندوق رکھنے کی اجازت دیجیے سرکار اب
ا
سے گھر ہے وہ ہے وہ ہیں کچھ بیٹیاں اور شہر ہے وہ ہے وہ ظالم بے حد

71

Download Image

ہے وہ ہے وہ ایک کردار سے بڑا تنگ ہوں قلمکار
مجھے کہانی ہے وہ ہے وہ ڈال غصہ نکالنا ہے

68

Download Image

ا
سے نے دیکھا مجھ کو تو کنڈی لگانی چھوڑ دی
پھروں مری ہونٹوں پہ اک آدھی کہانی چھوڑ دی

ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھپائے پھروں رہا تھا عشق اپنے گاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
اور پھروں ظالم نے گردن پہ نشانی چھوڑ دی

67

Download Image

سخن کا خون تمنا کم ہوتا نہیں ہے
وگر
لگ کیا ستم ہوتا نہیں ہے

بھلے جاناں کاٹ دو بازو ہمارے
کا سر ہوتا نہیں ہے

65

Download Image

گیت لکھے بھی تو ایسے کے سنائیں لگ گئے
زخم یوں لفظوں ہے وہ ہے وہ اترے کے دکھائیں لگ گئے

آج تک رکھے ہیں پچھتاوے کی الماری ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ایک دو وعدے جو دونوں سے نبھائیں لگ گئے

63

Download Image

ا
سے سمے انتظار کا عالم لگ پوچھیے
جب کوئی بار بار کہے آ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ

57

Download Image

دیکھنے کے لیے سارا عالم بھی کم
چاہنے کے لیے ایک چہرہ بے حد

49

Download Image

سر زمین ہند پر اقوام عالم کے فراق
بندھو بستے گئے ہندوستان بنتا گیا تو

48

Download Image

تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے

403

Download Image

الم کا لفظ گہرے جذباتی کرب کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ یہ اس قسم کے درد کی بات کرتا ہے جو روح میں رہتا ہے، ایک غم جو ذاتی اور عالمی دونوں ہے۔ شاعری میں، یہ انسانی اذیت کی گہری گہرائیوں کو بیان کرنے کے لیے ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔

شاعر 'الم' کا استعمال دل ٹوٹنے کی شدت اور انسانی مصائب کی عالمگیریت کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر ان اشعار میں ظاہر ہوتا ہے جو نقصان، آرزو، اور وقت کے ناقابل تلافی گزرنے کے موضوعات کو تلاش کرتے ہیں۔

اپنے شاعرانہ جوہر میں، 'الم' مصائب کے درمیان انسانی روح کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ یہ کمزوری میں پائی جانے والی خاموش طاقت کی بازگشت ہے۔