Meaning of

ان کہا

an-kaha • अन-कहा

ان کہا; نہ بولا گیا

unsaid; unspoken

अनकहा; न बोला गया

Unknown

تیری خوشبو کو لٹاتے ہوئے آتے جاتے
باقی اختیار ہے جو انسان کہاں جاتا ہے

0

Download Image

کہی سے دکھ تو کہی سے گھٹن اٹھا لائے
ک
ہاں ک
ہاں سے لگ دیوا
لگ پن اٹھا لائے

عجیب خواب تھا دیکھا کے در بدر ہوں کر
ہم اپنے ملک سے اپنا وطن اٹھا لائے

35

Download Image

خود اپنی گم شدگی سے جنہیں شکایت ہے
تو ہی بتا انہیں تیرا نشان کہاں سے ملے

9

Download Image

پھروں اک رات مجھے آیا میسج یہی
سمجھو جاناں آخر میرا میسج یہی

جان کہا تھا مجھ کو بھی اک دن ا
سے نے
جاناں کو بھی بھیجا ہوگا میسج یہی

4

Download Image

عاشق دین غزل کے لیے ہوشیاروں ہے حقیقت
اب جسے میر کا دیوان کہا جاتا ہے

3

Download Image

تیری قسمت ک
ہاں ک
ہاں اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ایک ویران سا مکان اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ

دور تک آ رہا نظر کچھ تو
ایک سگریٹ کا دھواں اور ہے وہ ہے وہ

0

Download Image

تیری خوشبو کو لٹاتے ہوئے آتے جاتے
باقی اختیار ہے جو انسان کہاں جاتا ہے

0

Download Image

کہی سے دکھ تو کہی سے گھٹن اٹھا لائے
ک
ہاں ک
ہاں سے لگ دیوا
لگ پن اٹھا لائے

عجیب خواب تھا دیکھا کے در بدر ہوں کر
ہم اپنے ملک سے اپنا وطن اٹھا لائے

35

Download Image

ان کہا اپنی اصل میں ان الفاظ کا بوجھ سمیٹے ہوئے ہے جو کبھی کہے نہیں گئے، وہ خاموشی جو ان کہی کہانیوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ شاعری ان جگہوں میں گہرائی پاتی ہے، جہاں ان کہا الفاظ سے زیادہ گونجتا ہے۔

شاعر اکثر 'ان کہا' کا استعمال خاموشی کی طاقت کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ان جذبات کا اشارہ دیتا ہے جو ہوا میں معلق رہتے ہیں، ان خیالات کا جو چھپے رہتے ہیں، اور جو ان کہا ہے اس کا گہرا اثر۔

شاعری کی دنیا میں، 'ان کہا' تخیل کے لیے ایک کینوس بن جاتا ہے، جہاں خاموشی بہت کچھ کہتی ہے۔