Meaning of

بے چارگی دوش

aqaa • आक़ा

مالک; آقا; خداوند

master; lord; owner

मालिक; स्वामी; प्रभु

Arabic

ہر ملاقات پہ سینے سے لگانے والے
کتنے پیاری ہیں مجھے چھوڑ کے جانے والے

زندگی بھر کی محبت کا صلہ لے ڈوبے
کیسے نادان تھے تری جان سے جانے والے

53

Download Image

مہرباں ہم پہ ہر اک رات ہوا کرتی تھی
آنکھ لگتے ہی ملاقات ہوا کرتی تھی

ہجر کی رات ہے اور آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں
ایسے موسم ہے وہ ہے وہ تو برسات ہوا کرتی تھی

140

Download Image

دن ہے وہ ہے وہ مل لیتے کہی رات ضروری تھی کیا
بےنتیجہ یہ ملاقات ضروری تھی کیا

مجھ سے کہتے تو ہے وہ ہے وہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ بلا لیتا تمہیں
بھیگنے کے لیے برسات ضروری تھی کیا

83

Download Image

غم اور خوشی ہے وہ ہے وہ فرق لگ محسو
سے ہوں ج
ہاں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کو ا
سے مقام پہ لاتا چلا گیا تو

78

Download Image

اسی مقام پہ کل مجھ کو دیکھ کر تنہا
بے حد ادا
سے ہوئے پھول بیچنے والے

65

Download Image

اب کے ہم ترک رسومات کر کے دیکھتے ہیں
بیچ والوں کے بنا بات کر کے دیکھتے ہیں

ا
سے سے پہلے کہ کوئی فیصلہ تلوار کرے
آخری بار ملاقات کر کے دیکھتے ہیں

65

Download Image

مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہوں جاناں بھی
کسی موڑ پر پھروں ملاقات ہوں گی

65

Download Image

نقشہ اٹھا کے کوئی نیا شہر ڈھونڈیے
ا
سے شہر ہے وہ ہے وہ تو سب سے ملاقات ہوں گئی

63

Download Image

لگ جی بھر کے دیکھا لگ کچھ بات کی
بڑی آرزو تھی ملاقات کی

59

Download Image

جگہ کی قید نہیں تھی کوئی کہی بیٹھے
ج
ہاں مقام ہمارا تھا ہم وہیں بیٹھے

امیر شہر کے آنے پہ اٹھنا پڑتا ہے
لہذا اگلی صفوں ہے وہ ہے وہ کبھی نہیں بیٹھے

58

Download Image

ہر ملاقات پہ سینے سے لگانے والے
کتنے پیاری ہیں مجھے چھوڑ کے جانے والے

زندگی بھر کی محبت کا صلہ لے ڈوبے
کیسے نادان تھے تری جان سے جانے والے

53

Download Image

مہرباں ہم پہ ہر اک رات ہوا کرتی تھی
آنکھ لگتے ہی ملاقات ہوا کرتی تھی

ہجر کی رات ہے اور آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں
ایسے موسم ہے وہ ہے وہ تو برسات ہوا کرتی تھی

140

Download Image

آقا کا اصل مفہوم اختیار اور ملکیت سے جڑا ہوا ہے، جو طاقت اور احترام کی علامت ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر الٰہی یا محبوب شخصیت کی علامت بن جاتا ہے، جذباتی منظرنامے کو عقیدت اور محبت سے بھر دیتا ہے۔

شاعر 'آقا' کا استعمال عقیدت اور اطاعت کے احساس کو بیدار کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ الٰہی ہستی، محبوب یا کسی مقتدر شخصیت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ اکثر خدمت یا تڑپ کے موضوعات کے ساتھ متضاد ہوتا ہے۔

آقا طاقت اور عقیدت کی دوگانگی کو مجسم کرتا ہے، جو ہمیں الٰہی اور محبوب سے جوڑنے والے بندھنوں کی یاد دلاتا ہے۔