Meaning of

ارحم

arham • अरहम

سب سے رحم دل; سب سے مہربان

most merciful; kindest

सबसे दयालु; सबसे कृपालु

Arabic

کئی دشواریاں گزری تمہارا غم نہیں پہچانی
زخم تھے جب بدن پہ کوئی مرہم نہیں پہچانی

6

Download Image

یہ بات ابھی سب کو سمجھ آئی نہیں ہے
دیوا
لگ ہے دیوا
لگ تمنا ئی نہیں ہے

دل میرا دکھا کر یہ مجھے تیرا منانا
مرہم ہے فقط زخم کی بھر
پائی نہیں ہے

51

Download Image

ہاں رہتے ہیں اب را
ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
تجھ بن تو ہم بے گھر نکلے

چبایا تھی مرہم دوگے جاناں
پر آخر سب خنجر نکلے

39

Download Image

تیری بان
ہوں کے مرہم کو
ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہتا ہوں غائل بنکے

دل تو تیرا دیوا
لگ ہے
اب تو بھی آ قائل بنکے

38

Download Image

لگ ہوں برہم جو بوسہ بے اجازت لے لیا ہے وہ ہے وہ نے
چلو جانے دو بے تابی ہے وہ ہے وہ ایسا ہوں ہی جاتا ہے

26

Download Image

سمے ہر زخم کا مرہم تو نہیں بن سکتا
درد کچھ ہوتے ہیں تا عمر رلانے والے

26

Download Image

کوئی ہم سے بھی پوچھے یہ غم کیا ہے
چاہت ہے وہ ہے وہ کرتے ہیں حقیقت ماتم کیا ہے

جگری آتے ہیں کچھ لے کر مری گھر
کہتے ہیں ہم ان سے یہ مرہم کیا ہے

15

Download Image

جب بھی ماضی کے زخموں پر مجھے ہوا لگتی ہے
بن کے مرہم دل پہ سگریٹ ہی دوا لگتی ہے

11

Download Image

اتنی بے تابی کہاں دہلاتے ہے یاروں عشق ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ب
سے ابھی مرہم لگایا ہے اثر ہونے تو دو

8

Download Image

بھرتا بھی کیوں کہ زخم تھا تری فراق کا
پھروں ہم نے تیری یاد کو مرہم سمجھ لیا

6

Download Image

کئی دشواریاں گزری تمہارا غم نہیں پہچانی
زخم تھے جب بدن پہ کوئی مرہم نہیں پہچانی

6

Download Image

یہ بات ابھی سب کو سمجھ آئی نہیں ہے
دیوا
لگ ہے دیوا
لگ تمنا ئی نہیں ہے

دل میرا دکھا کر یہ مجھے تیرا منانا
مرہم ہے فقط زخم کی بھر
پائی نہیں ہے

51

Download Image

ارحم ایک گہری رحمت اور مہربانی کا احساس پیدا کرتا ہے، جو اکثر الہی صفات سے منسلک ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ محض ہمدردی تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک لا محدود، غیر مشروط محبت کو بھی شامل کرتا ہے جو انسانی حدود سے ماورا ہوتا ہے۔

شاعر اکثر 'ارحم' کا استعمال الہی یا ماورائی محبت کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ انسانی کمزوری اور الہی کمال کے درمیان فرق کو ظاہر کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ روحانی تڑپ یا الہی تعلق کے احساس کو پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

ارحم الہی رحمت کا جوہر ہے، اس لا محدود محبت کی یاد دلاتا ہے جسے شاعری پکڑنے کی کوشش کرتی ہے۔