Meaning of

عرصہ

arsa • अर्सा

مدت; زمانہ; وقت

period; span; duration

अवधि; काल; समय

Arabic

دھوپ تو دھوپ ہی ہے ا
سے کی شکایت کیسی
اب کی برسات ہے وہ ہے وہ کچھ پیڑ لگانا صاحب

50

Download Image

ا
گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے
ذرا سی بوندابان
گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے

یہ راہ عشق ہے ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں
محبت اڑانی والوں کے ب
سے کی بات تھوڑی ہے

221

Download Image

مہرباں ہم پہ ہر اک رات ہوا کرتی تھی
آنکھ لگتے ہی ملاقات ہوا کرتی تھی

ہجر کی رات ہے اور آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں
ایسے موسم ہے وہ ہے وہ تو برسات ہوا کرتی تھی

140

Download Image

دن ہے وہ ہے وہ مل لیتے کہی رات ضروری تھی کیا
بےنتیجہ یہ ملاقات ضروری تھی کیا

مجھ سے کہتے تو ہے وہ ہے وہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ بلا لیتا تمہیں
بھیگنے کے لیے برسات ضروری تھی کیا

83

Download Image

خوشبو کی برسات نہیں کر پاتے ہیں
ہم خود ہی شروعات نہیں کر پاتے ہیں

ج
سے لڑکی کی باتیں کرتے ہیں سب سے
ا
سے لڑکی سے بات نہیں کر پاتے ہیں

83

Download Image

زیادتی ہر بات کی ہر چیز کی اچھی نہیں
ڈوبتے شہروں ہے وہ ہے وہ کچھ برسات رکھ کر دیکھیے

62

Download Image

تو ا
گر خوش ہے مری رونے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ و
ہاں بیٹھ جاؤں کونے ہے وہ ہے وہ ہے وہ

دیکھتے ہوں یہ اینٹ کا تکیہ
ایک عرصہ لگا بھگونے ہے وہ ہے وہ

54

Download Image

دھوپ ہے وہ ہے وہ کون کسے یاد کیا کرتا ہے
پر تری شہر ہے وہ ہے وہ برسات تو ہوتی ہوں گی

53

Download Image

تمہارے پا
سے آتے ہیں تو سانسیں بھیگ جاتی ہیں
محبت اتنی ملتی ہے کہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

تبسم عطر جیسا ہے ہنسی برسات جیسی ہے
حقیقت جب بھی بات کرتی ہے تو باتیں بھیگ جاتی ہیں

52

Download Image

خلاف شرط انا تھا حقیقت خواب ہے وہ ہے وہ بھی ملے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نیند نیند کو دراڑیں م
گر نہیں سویا

خلاف موسم دل تھا کہ تھم گئی بارش
خلاف غربت غم ہے کہ ہے وہ ہے وہ نہیں رویا

52

Download Image

دھوپ تو دھوپ ہی ہے ا
سے کی شکایت کیسی
اب کی برسات ہے وہ ہے وہ کچھ پیڑ لگانا صاحب

50

Download Image

ا
گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے
ذرا سی بوندابان
گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے

یہ راہ عشق ہے ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں
محبت اڑانی والوں کے ب
سے کی بات تھوڑی ہے

221

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'عرصہ' وقت کی ایک قابل پیمائش مدت کو ظاہر کرتا ہے، ایک ایسا عرصہ جو گنا یا دیکھا جا سکتا ہے۔ شاعری میں، یہ لفظ اکثر وقت کے گزرنے، سالوں کے بوجھ، یا لمحوں کی عارضی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس میں یادوں کی گونج اور تبدیلی کی ناگزیریت کا احساس ہوتا ہے۔

شاعر اکثر 'عرصہ' کا استعمال وقت کے گزرنے اور اس کے انسانی زندگی پر اثرات کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ وجود کی مختصری اور وسعت دونوں کو ظاہر کر سکتا ہے۔ یہ ان الفاظ کے برعکس ہے جو ابدیت یا وقت کی قید سے آزاد ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔

شاعری میں، 'عرصہ' زندگی کی عارضی نوعیت پر غور کرنے کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ وقت کی مسلسل رفتار پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔