Meaning of

پٹہ

azeez-o-aashna • अज़ीज़-ओ-आश्ना

عزیز اور آشنا; محبوب اور جانا پہچانا

dear and familiar; beloved and known

प्रिय और परिचित; प्यारा और जाना-पहचाना

Persian

اشارہ ہے خدا کا ایک دوجے کے لیے ہیں ہم
دوپٹہ تیرا یوں نہیں قبلہ حاجات رہا مری گھڑی ہے وہ ہے وہ جان

2

Download Image

بٹھا دیا ہے سپاہی کے دل ہے وہ ہے وہ ڈر ا
سے نے
تلاشی دی ہے دوپٹہ اتار کر ا
سے نے

ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا
سے
لیے بھی اسے خود کشی سے روکتا ہوں
لکھا ہوا ہے میرا نام جسم پر ا
سے نے

107

Download Image

حقیقت اجلا ہوں کہ میلا ہوں یا مہنگا ہوں کہ سستا ہوں
یہ ماں کا سر ہے ا
سے پر ہر دوپٹہ مسکراتا ہے

31

Download Image

جو دوپٹہ ہے کفن پر مری
یار سن لو کوئی میلا لگ کرے

9

Download Image

ا
سے نے سلیقے سے دوپٹہ اوڑھا سنتے ہی اذان
یہ دیکھ کر کاوش میرا ایمان تازہ ہوں گیا تو

7

Download Image

مری ا
سے واچ کی حک سے تھا الجھتا پہلے
کتنا دیوا
لگ تھا یہ تیرا دوپٹہ پہلے

4

Download Image

درد غم پریشانی کچھ نہیں محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کاش سمے پر میرا اختیار کر لیتی

آج یہ مری وحشت بھی مری دوپٹہ ہے
موت پر ذرا ہم کو یاد یار کر لیتی

4

Download Image

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک ریل گاڑی روکنی ہیں
سو ہم تیرا دوپٹہ لے رہے ہیں

3

Download Image

جو کبھی مرتا نہیں اک بے وجہ کا کردار ہے
بے حیائی کم نہیں اب اتنی تو رفتار ہے

حقیقت بھی تو اک سمے تھا جب سب سے اول تھی حیا
آج سر پر اک دوپٹہ رکھنا بھی دشوار ہے

3

Download Image

زمانے کی بری دی سے جاناں کو دور رکھنا ہے
کہی باہر جو نکلو جاناں دوپٹہ ساتھ لے جاؤ

2

Download Image

اشارہ ہے خدا کا ایک دوجے کے لیے ہیں ہم
دوپٹہ تیرا یوں نہیں قبلہ حاجات رہا مری گھڑی ہے وہ ہے وہ جان

2

Download Image

بٹھا دیا ہے سپاہی کے دل ہے وہ ہے وہ ڈر ا
سے نے
تلاشی دی ہے دوپٹہ اتار کر ا
سے نے

ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا
سے
لیے بھی اسے خود کشی سے روکتا ہوں
لکھا ہوا ہے میرا نام جسم پر ا
سے نے

107

Download Image

عزیز و آشنا کا لفظ ایک گرمجوشی اور قربت کا احساس دلاتا ہے۔ یہ ان رشتوں کی بات کرتا ہے جو عزیز ہوتے ہیں، وہ تعلقات جو گہرے اور دیرپا محسوس ہوتے ہیں۔ شاعری میں، یہ فقرہ ان رشتوں کا جوہر پکڑتا ہے جو عزیز اور آشنا ہوتے ہیں، جہاں محبت اور پہچان ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔

شاعر 'عزیز و آشنا' کا استعمال اکثر ان رشتوں کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں جو عزیز اور آشنا ہوتے ہیں۔ یہ ایک دیرینہ دوستی کی آرام دہ احساس یا ایک محبوب کے گہرے تعلق کو ظاہر کر سکتا ہے۔ یہ فقرہ اجنبیت یا ناواقفیت کے جذبات کے برعکس ہے، پہچان اور محبت کی گرمجوشی کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'عزیز و آشنا' واقفیت اور محبت کی نرم آغوش کی علامت ہے۔ یہ ان رشتوں کی یاد دلاتا ہے جو ہمیں مستحکم رکھتے ہیں۔