Meaning of

باعث

ba'is • बा'इस

سبب; وجہ; تحریک

cause; reason; motive

कारण; वजह; प्रेरणा

Arabic

ایک سر ہے جو پریشانی کا باعث بنا ہے
مستقل زندگی بھی گیت وہی گاتی ہے

1

Download Image

یہ زما
لگ بھی اسی باعث ترا ہے
جھوٹ بھی سچ کی طرح تو بولتا ہے

6

Download Image

ہے باعث کلفت یوں غصہ اپنا دکھانا
بے چشم بصیرت ہے تماشائی ہمارا

5

Download Image

ج
سے کسی سے تیرا چکر چل رہا تھا
اس کا کا کو ہے وہ ہے وہ اچھی طرح سے جانتا تھا

راتیں روشن تھی کسی کی تجھ سے دلبر
تو کسی کا تری باعث رت جگا تھا

2

Download Image

اتنا غصہ آتا ہے جب تب پر
کیسا ہوگا حال مری بربا
گرا پر

باعث کو ہے وہ ہے وہ آدھی بازی ہارا ہوں
مر جاؤںگا یار تمہاری شا
گرا پر

2

Download Image

شب و غمی روز کی چاکری زندگی کی
میسر ہوئیں روٹیاں دو گھڑی کی

نہیں کام آئیں جو اک دن مشینیں
ضرورت بنے آدمی آدمی کی

کہ کل شام فرصت ہے وہ ہے وہ آئی اداسی
بتا دی مجھے قیمتیں ہر خوشی کی

کیا کیا امن جی نے باعث برس ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کبھی جی لیا تو کبھی خود کشی کی

غموں کو ٹھکانے لگاتے لگاتے
گھڑی آ گئی آدمی کے اوپچارکتا کی

یہ ساری تپسیا کا کارن یہی ہے
مثالیں بنیں تو بنیں سادگی کی

2

Download Image

حقیقت جو تسکین دل کا باعث ہے
اسم خیر الانام ہے قیصر

2

Download Image

یہ غم عشق پھروں زخم بے وفائی کے باعث ہی
تی
سے کی عمر ہے وہ ہے وہ نوے کا کہن سال دکھتا ہے

1

Download Image

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ٹھیک سے تو شاعری بھی اب نہیں آتی
پتا تو ہے نہیں کیسے غزل انوار اتر آیا

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کل دیکھ ٹی وی باعث اضطراب پر بھلا کیا سوچ رووگی
یہی ب
سے سوچ دل سے یار یہ م
خبر اتر آیا

1

Download Image

اثر کچھ یوں ہوا پہلی دفع مل کر کے ان سے
کیلنڈر ہے وہ ہے وہ بھی اب تک نومبر باعث کا کھلا ہے

1

Download Image

ایک سر ہے جو پریشانی کا باعث بنا ہے
مستقل زندگی بھی گیت وہی گاتی ہے

1

Download Image

یہ زما
لگ بھی اسی باعث ترا ہے
جھوٹ بھی سچ کی طرح تو بولتا ہے

6

Download Image

باعث کا اصل مطلب کسی عمل یا واقعے کے پیچھے کا سبب یا وجہ ہے۔ شاعری میں اس لفظ کا استعمال انسانی تحریک اور ان غیر مرئی قوتوں کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے کیا جاتا ہے جو جذبات اور فیصلوں کو تحریک دیتی ہیں۔

شاعر اکثر 'باعث' کا استعمال انسانی فطرت کی پیچیدگیوں میں گہرائی سے اترنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ان چھپی ہوئی خواہشات کا اشارہ دے سکتا ہے جو اعمال کو تحریک دیتی ہیں، عاشق کی آہ کے پیچھے کے خاموش اسباب، یا تقدیر کو شکل دینے والی لطیف تحریکات۔

شاعری میں 'باعث' دل کی غیر مرئی لہروں کو منعکس کرنے والا آئینہ بن جاتا ہے۔ یہ ان قوتوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے جو خاموشی سے ہماری زندگیوں کی رہنمائی کرتی ہیں۔