Meaning of

بیر

bair • बैर

دشمنی; عداوت

enmity; hostility

दुश्मनी; शत्रुता

Sanskrit

یوں لگ کر وصل کے لمحوں کو ہوں
سے سے تعبیر
چند پتے ہی تو گرفت ہیں شجر سے ہے وہ ہے وہ نے

27

Download Image

مذہب نہیں سکھاتا آپ
سے ہے وہ ہے وہ بیر رکھنا
ہم رہی ہیں ہم وطن ہے ہندوستان ہمارا

97

Download Image

الٹی ہوں گئیں سب تدبیریں کچھ لگ دوا نے کام کیا
دیکھا ا
سے بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

72

Download Image

الفت سے دنیا کا بیر پرانا ہے
پھروں بھی دیوانے کو شعر سنہانا ہے

سبکا قرض ادا کر کے لوٹا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ب
سے اک لڑکی کا بوسہ لوٹانا ہے

60

Download Image

بنا تری ادھورے مری ہر اک شعر رہ جاتے
کہ چنو رام بن شبری کے سارے بیر رہ جاتے

تمہارے واسطے ہے وہ ہے وہ نے ی
ہاں محفل سجائی تھی
بھلا ہوتا ا
گر جاناں اور تھوڑی دیر رہ جاتے

42

Download Image

ہمارا عشق عبادت کا ا
گلہ درجہ ہے
خدا نے چھوڑ دیا تو تمہارا نام لیا

غموں سے بیر تھا سو ہم نے خود کشی کر لی
شجر نے گر کے پرندوں سے انتقام لیا

40

Download Image

کسی سے جھوٹی محبت کسی سے سچا بیر
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کر تو سکتا ہوں یہ سب م
گر نہیں کروں گا

34

Download Image

بڑھ کے امکان سے نقصان اٹھائے ہوئے ہیں
ہم محبت ہے وہ ہے وہ بے حد نام کمائے ہوئے ہیں

مری مولا مجھے تعبیر کی دولت دے دے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اک بے وجہ کو کچھ خواب د
کھائے ہوئے ہیں

32

Download Image

اک حسین خواب کہ آنکھوں سے نکلتا ہی نہیں
ایک وحشت ہے کہ تعبیر ہوئی جاتی ہے

30

Download Image

قف
سے کو توڑ کے جب بھی ہم نوا نکلےگا
ہمارے کھول کے اندر سے میر نکلےگا
دھواں ہے راکھ ہے اور ڈھیر ہے چتاؤں کا
یہیں سے ناچتا گاتا کبیر نکلےگا

27

Download Image

یوں لگ کر وصل کے لمحوں کو ہوں
سے سے تعبیر
چند پتے ہی تو گرفت ہیں شجر سے ہے وہ ہے وہ نے

27

Download Image

مذہب نہیں سکھاتا آپ
سے ہے وہ ہے وہ بیر رکھنا
ہم رہی ہیں ہم وطن ہے ہندوستان ہمارا

97

Download Image

بیر ایک ایسا لفظ ہے جو گہری دشمنی کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر انسانی تعلقات کے گہرے رنگوں کی عکاسی کرتا ہے، جہاں محبت اور نفرت ایک نازک توازن میں ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔

شاعر 'بیر' کا استعمال تصادم اور مصالحت کے موضوعات کی تلاش کے لیے کرتے ہیں۔ یہ خود کے اندر یا افراد کے درمیان جدوجہد کو ظاہر کر سکتا ہے، جو انسانی جذبات کی پیچیدگی کو اجاگر کرتا ہے۔

بیر انسانی فطرت کی دوگانگی کو مجسم کرتا ہے، جہاں محبت اور دشمنی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔