Meaning of

بخش

bakhsh • बख़्श

عطا کرنا; معاف کرنا

grant; forgive

प्रदान करना; क्षमा करना

Persian

ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو تر ب تر کرنے کسی دن آئےگا بادل
لگ جانے کن غریبوں کے گھروں کو کھائےگا بادل

ستارے تم تم نوچ لاوں گا کسی دن ضد پہ آیا تو
ابھی گردش ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں بے حد اتراے گا بادل

یہ ساری مچھلیاں جب بد دعا دینے لگیںگی تب
سمندر پیا
سے سے یوم وعدہ اور مر جائےگا بادل

کہی پر کم کہی زیادہ یہ کیسا فیصلہ تیرا
سنبھل جا سمے ہے ورنا بے حد پچھتائے گا بادل

منہافق ہے یہ راتوں کا کسی کو بھی نہیں بخشش
جوانی زلف آنکھیں اور کیا کیا کھائےگا بادل

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں جو تجھے سر پہ چڑھاکر پھرتے رہتے ہیں
کشادہ ظرف کر لیں ہم تو کیا ٹک پائے گا بادل

7

Download Image

خدا نے یہ صفت دنیا کی ہر عورت کو بخشی ہے
کہ حقیقت پاگل بھی ہوں جائے تو بیٹے یاد رہتے ہیں

71

Download Image

چھو لینے دو چھوؤں گا ہونٹوں کو کچھ اور نہیں ہیں جام ہیں یہ
قدرت نے جو ہم کو بخشش ہے حقیقت سب سے حسین انعام ہیں یہ

63

Download Image

زندگی چھین لے بخشی ہوئی دولت اپنی
تو نے خوابوں کے سوا مجھ کو دیا بھی کیا ہے

47

Download Image

بخشی ہیں ہم کو عشق نے حقیقت جرأتیں لذت صدخمار
ڈرتے نہیں سیاست اہل ج
ہاں سے ہم

32

Download Image

مجھے بھی بخش دے لہجے کی خوش بیانی سب
تری اثر ہے وہ ہے وہ ہیں الفاظ سب معانی سب

مری بدن کو کھلاتی ہے پھول کی مانند
کہ ا
سے نگاہ ہے وہ ہے وہ ہے دھوپ چھاؤں پانی سب

31

Download Image

یہ بھی اعزاز مجھے عشق نے بخشش تھا کبھی
ا
سے کی آواز سے ہے وہ ہے وہ دیپ جلا سکتا تھا

26

Download Image

تری حسین تصور کو سامنے لا کر
شب فراق کو بخشی ہے چاندنی ہے وہ ہے وہ نے

15

Download Image

ا
سے سے بچھڑے اک زما
لگ ہوں گیا تو
زخم ا
سے دل کا پرانا ہوں گیا تو

ا
سے کی یادوں سے کہو اب بخش دیں
بے حد ا
سے دل کو ستانا ہوں گیا تو

13

Download Image

اب خدا نعمتیں ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بخشی
چاند جیسی ہماری بیگم ہوں

8

Download Image

ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو تر ب تر کرنے کسی دن آئےگا بادل
لگ جانے کن غریبوں کے گھروں کو کھائےگا بادل

ستارے تم تم نوچ لاوں گا کسی دن ضد پہ آیا تو
ابھی گردش ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں بے حد اتراے گا بادل

یہ ساری مچھلیاں جب بد دعا دینے لگیںگی تب
سمندر پیا
سے سے یوم وعدہ اور مر جائےگا بادل

کہی پر کم کہی زیادہ یہ کیسا فیصلہ تیرا
سنبھل جا سمے ہے ورنا بے حد پچھتائے گا بادل

منہافق ہے یہ راتوں کا کسی کو بھی نہیں بخشش
جوانی زلف آنکھیں اور کیا کیا کھائےگا بادل

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں جو تجھے سر پہ چڑھاکر پھرتے رہتے ہیں
کشادہ ظرف کر لیں ہم تو کیا ٹک پائے گا بادل

7

Download Image

خدا نے یہ صفت دنیا کی ہر عورت کو بخشی ہے
کہ حقیقت پاگل بھی ہوں جائے تو بیٹے یاد رہتے ہیں

71

Download Image

بخش لفظ سخاوت اور معافی کی احساس کو لے کر آتا ہے۔ یہ دینے کے عمل کی نشاندہی کرتا ہے، چاہے وہ مادی ہو یا جذباتی، اور اکثر ایک عظیم روح کا اشارہ دیتا ہے۔ شاعری میں، یہ رحم، ہمدردی، اور چھوڑنے کے عظیم عمل کے موضوعات کو بیدار کر سکتا ہے۔

شاعر 'بخش' کا استعمال معافی اور نجات کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ رحم کی درخواست یا ایک سخاوتی عمل کی تسلیم ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ اکثر انتقام یا تلخی کے موضوعات کے برعکس ہوتا ہے۔

بخش کے عمل میں ایک گہری فضل ہے جو انسانی تعامل کی عام حدود کو عبور کرتا ہے۔