Meaning of

ہوئے

charagh-e-wafa • चराग़-ए-वफ़ा

وفا کا چراغ; وفاداری کی روشنی

lamp of loyalty; beacon of faithfulness

वफ़ादारी का दीपक; निष्ठा का प्रकाश

Persian

ا
سے طرح روتے ہیں ہم یاد تجھے کرتے ہوئے
چنو تو ہوتا تو سینے سے لگا لیتا ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ

84

Download Image

اب ان جلے ہوئے جسموں پہ خود ہی سایہ کروں
تمہیں کہا تھا بتا کر قریب آیا کروں

ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا
سے کے بعد مہینوں ادا
سے رہتا ہوں
مزاق ہے وہ ہے وہ بھی مجھے ہاتھ مت لگایا کروں

295

Download Image

اور پھروں ایک دن بیٹھے بیٹھے مجھے
اپنی دنیا بری لگ گئی

ج
سے کو آباد کرتے ہوئے
مری ماں باپ کی زندگی لگ گئی

207

Download Image

تری لگائے ہوئے زخم کیوں نہیں بھرتے
مری لگائے ہوئے پیڑ سوکھ جاتے ہیں

202

Download Image

تیری نگاہ ناز سے چھوٹے ہوئے درخت
مر جائیں کیا کریں بتا سوکھے ہوئے درخت

حیرت ہے پیڑ نیم کے دینے لگے ہیں آم
پگلا گئے ہیں آپ کے چو گرد امیر
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوئے درخت

96

Download Image

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں ہے وہ ہے وہ ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں ہے وہ ہے وہ ملیں

95

Download Image

آج اک اور بر
سے بیت گیا تو ا
سے کے بغیر
ج
سے کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے مری

90

Download Image

اک روز کھیل کھیل ہے وہ ہے وہ ہم ا
سے کے ہوں گئے
اور پھروں تمام عمر کسی کے نہیں ہوئے

87

Download Image

دوری ہوئی تو ان سے قریب اور ہم ہوئے
یہ کیسے فاصلے تھے جو بڑھنے سے کم ہوئے

87

Download Image

اپنے سامان کو باندھے ہوئے ا
سے سوچ ہے وہ ہے وہ ہوں
جو کہی کے نہیں رہتے حقیقت ک
ہاں جاتے ہیں

86

Download Image

ا
سے طرح روتے ہیں ہم یاد تجھے کرتے ہوئے
چنو تو ہوتا تو سینے سے لگا لیتا ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ

84

Download Image

اب ان جلے ہوئے جسموں پہ خود ہی سایہ کروں
تمہیں کہا تھا بتا کر قریب آیا کروں

ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا
سے کے بعد مہینوں ادا
سے رہتا ہوں
مزاق ہے وہ ہے وہ بھی مجھے ہاتھ مت لگایا کروں

295

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'چراغ وفا' ایک ثابت قدم روشنی کی تصویر پیش کرتا ہے، جو تاریکی میں رہنمائی کرتا ہے۔ شاعری میں یہ لفظ غیر متزلزل وفاداری اور حقیقی عقیدت کی پائیداری کی علامت بن گیا ہے۔

شاعر 'چراغ وفا' کا استعمال اکثر آزمائشوں کے درمیان وفاداری کی پائیدار روشنی کو ظاہر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ عارضی جذبات کے برعکس، حقیقی عقیدت کی ابدی نوعیت کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'چراغ وفا' وفاداری کی پائیدار طاقت کا ثبوت ہے۔ اس کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوتی۔