Meaning of

دم ب دم

dam-b-dam • दम-ब-दम

سانس بہ سانس; مسلسل

breath by breath; continuously

साँस दर साँस; लगातार

Persian

ہے وہی کشتی پرانی ہے وہی دریا میرا
جس پہ تو آنے نہ پایا ہے وہی رستہ میرا

میں مری مصروفیت سے تنگ آ جاتا ہوں دوست
مجھ کو سینے سے لگا کے وقت کر ضائع میرا

اپنی وحشت کا تقاضا ڈھونڈتا ہوں در بدر
لے گیا ہے کوہکن جس روز سے تیشہ میرا

یاد کر कूचा-नवर्दी,یاد کر الفت کے دن
یاد کر باتیں میری اور یاد کر چہرہ میرا

جب ہوائیں تھک گئیں تھیں کوششیں کر دشت میں
ریت تب رقصاں ہوئی تھی چوم کر سایہ میرا

بارشوں کو موسموں کا کھیل سب کہتے ہیں پر
رو پڑے تھے موتی جان کر قصہ میرا

آنکھ وہ ہنستی رہی تو کھیل اٹھے سوکھے گلاب
آنکھ وہ رونے لگی تو رو پڑا صحرا میرا

خسروان شہر میں ہو جاؤں گا اک لمس سے
اور فقط اک دید سے بھر جائےگا کاسا میرا

میں کتابوں کے جہاں کا ایک خوش قسمت کتاب
ناو بچوں نے بنایا پھاڑ کر صفحہ میرا

اس نظر کو خواہشوں کا شوق دے میرا خیال
اس جبیں کو روشنی دیتا رہے بوسہ میرا

میں مسلسل بند کرتا ہوں مگر پھروں دم ب دم
یاد اس کی کھولتی جاتی ہے دروازہ میرا

0

Download Image

دھواں ہوکر نکلتی ہیں یہ سانسیں دل کے اندر سے
کسی کی یاد ہے وہ ہے وہ دل دم ب دم جب دم لگاتا ہے

2

Download Image

منہ کو کلیجہ آ گیا لیکن ابھی تلک
مجھ پر ارادہ جیت کا تاری ہے دم ب دم

1

Download Image

ہے وہی کشتی پرانی ہے وہی دریا میرا
جس پہ تو آنے نہ پایا ہے وہی رستہ میرا

میں مری مصروفیت سے تنگ آ جاتا ہوں دوست
مجھ کو سینے سے لگا کے وقت کر ضائع میرا

اپنی وحشت کا تقاضا ڈھونڈتا ہوں در بدر
لے گیا ہے کوہکن جس روز سے تیشہ میرا

یاد کر कूचा-नवर्दी,یاد کر الفت کے دن
یاد کر باتیں میری اور یاد کر چہرہ میرا

جب ہوائیں تھک گئیں تھیں کوششیں کر دشت میں
ریت تب رقصاں ہوئی تھی چوم کر سایہ میرا

بارشوں کو موسموں کا کھیل سب کہتے ہیں پر
رو پڑے تھے موتی جان کر قصہ میرا

آنکھ وہ ہنستی رہی تو کھیل اٹھے سوکھے گلاب
آنکھ وہ رونے لگی تو رو پڑا صحرا میرا

خسروان شہر میں ہو جاؤں گا اک لمس سے
اور فقط اک دید سے بھر جائےگا کاسا میرا

میں کتابوں کے جہاں کا ایک خوش قسمت کتاب
ناو بچوں نے بنایا پھاڑ کر صفحہ میرا

اس نظر کو خواہشوں کا شوق دے میرا خیال
اس جبیں کو روشنی دیتا رہے بوسہ میرا

میں مسلسل بند کرتا ہوں مگر پھروں دم ب دم
یاد اس کی کھولتی جاتی ہے دروازہ میرا

0

Download Image

دھواں ہوکر نکلتی ہیں یہ سانسیں دل کے اندر سے
کسی کی یاد ہے وہ ہے وہ دل دم ب دم جب دم لگاتا ہے

2

Download Image

یہ فقرہ ایک مسلسل، ہم آہنگ بہاؤ کی تجویز دیتا ہے، جو سانس کے قدرتی چکر کے مشابہ ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر استقامت، زندگی کی تسلسل اور وقت کے لطیف بہاؤ کی علامت ہوتا ہے۔

شاعر اسے استقامت اور زندگی کی جاری نوعیت کے خیال کو بیان کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ وقت کے نرم، غیر محسوس بہاؤ کو بھی ظاہر کر سکتا ہے۔ اکثر اچانک یا تبدیلی کے برعکس ہوتا ہے۔

'دم ب دم' میں، زندگی کی خاموش استقامت اور وجود کی نرم ہم آہنگی ملتی ہے۔