Meaning of

در و دیوار

dar-o-deewaar • दर–ओ–दीवार

دروازے اور دیواریں; گھر کی ساخت; گھر کی علامت

doors and walls; the structure of a house; metaphor for home

दरवाज़े और दीवारें; घर की संरचना; घर का प्रतीक

Persian

دکھ لگ جائے اسے مری حالت
در و دیوار پاٹ لیتا ہوں

سمے کٹتا نہیں میرا ج
سے دن
ہاتھ کی ن
سے ہی کاٹ لیتا ہوں

1

Download Image

در و دیوار پہ حسرت سے نظر کرتے ہیں
خوش رہو اہل وطن ہم تو سفر کرتے ہیں

15

Download Image

در و دیوار سے روشن نہیں ہوتا مکان کوئی
ج
ہاں خوشیاں نہیں ہوتی حقیقت گھر بھی گھر نہیں ہوتا

8

Download Image

فطرت ا
گر ہوں کانچ سی در و دیوار کی
پردے ہوا سے کب تلک عزت بچائیں گے

5

Download Image

در و دیوار تھام لیتے ہیں
لوگ جب تیرا نام لیتے ہیں

پہلے آنکھیں تری میسر تھیں
اب نہیں ہیں سو جام لیتے ہیں

3

Download Image

محبوب کو دی کے دریچے ہے وہ ہے وہ بٹھا کر
کرتے رہو روشن در و دیوار غزل کے

2

Download Image

ہر اک سو ہیں در و دیوار لیکن
میسر ہے نہیں گھر بار لیکن

2

Download Image

سمے ہر سمے ک
ہاں ایک سا رہ پاتا ہے
ماضی جاتا ہے تو پھروں حال بدل جاتا ہے

دن مہینے در و دیوار وہی رہتے ہیں
ب
سے کیلنڈر ہے جو ہر سال بدل جاتا ہے

2

Download Image

ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے آ
سماں تک نور تیرا ہی نظر آیا
تجھے جب چاند نے دیکھا ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر حقیقت اتر آیا

کھلے ہیں پھول کے چنو در و دیوار سب گھر کے
خوشی ہے رونقیں ہیں آج میرا یار گھر آیا

2

Download Image

حقیقت ہی چہرہ حقیقت ہی آنکھیں حقیقت ہی دست و بازو
در و دیوار لگ جستجو دل شکستہ لگ ہی حقیقت گھر میرا

1

Download Image

دکھ لگ جائے اسے مری حالت
در و دیوار پاٹ لیتا ہوں

سمے کٹتا نہیں میرا ج
سے دن
ہاتھ کی ن
سے ہی کاٹ لیتا ہوں

1

Download Image

در و دیوار پہ حسرت سے نظر کرتے ہیں
خوش رہو اہل وطن ہم تو سفر کرتے ہیں

15

Download Image

یہ فقرہ گھر کی جسمانیت کو ظاہر کرتا ہے، مگر شاعری میں یہ اکثر اس جذباتی اور روحانی پناہ کا استعارہ بن جاتا ہے جو ایک گھر فراہم کرتا ہے۔ دیواریں اور دروازے صرف رکاوٹیں نہیں ہیں بلکہ یادوں اور جذبات کے محافظ ہیں۔

شاعر اکثر 'در و دیوار' کا استعمال ذاتی جگہوں کی قربت اور تقدس کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ایک خاندانی گھر کی گرمی یا ایک ویران گھر کی تنہائی کو منعکس کر سکتا ہے۔ یہ فقرہ بیرونی دنیا کی وسعت کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔

شاعری میں، 'در و دیوار' ایک ایسا کینوس بن جاتا ہے جس پر دیواروں کے اندر زندگی کی گونج اور تعلق کی روح کو تلاش کیا جاتا ہے۔